Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. شرطیں جو بندگی میں لگانا روا ہوااے واعظوں نماز نہ ٹھہری جوا ہواShad Lakhnavi (d. 1892)
  2. شکل مژگاں نہ خار کی سی ہےہم نے تاڑی کٹار کی سی ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
  3. شگفتہ ہوتے ہی مرجھا گئی کلی افسوسبہار باغ ادھر آئی ادھر گئی افسوسShad Lakhnavi (d. 1892)
  4. عشق رخ و زلف میں کیا کوچشب آ کے رہا سحر کیا کوچShad Lakhnavi (d. 1892)
  5. عشق میں زور عمر بھر ماراعاقبت کوہ کن نے سر ماراShad Lakhnavi (d. 1892)
  6. غیروں میں حنا وہ مل رہا ہےنیرنگ جہاں بدل رہا ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
  7. قول اس دروغ گو کا کوئی بھی سچ ہوا ہےواعظ جہان بھر کا جھوٹا لباریا ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
  8. کہتے ہیں نالۂ حزیں سن کےسو دل گداز ہیں دھن کےShad Lakhnavi (d. 1892)
  9. کیا کہوں غنچۂ گل نیم دہاں ہے کچھ اورلا کلامی ہے وہاں بات یہاں ہے کچھ اورShad Lakhnavi (d. 1892)
  10. کیا یہ بت بیٹھیں گے خدا بن کراللہ اللہ اے برہمن کرShad Lakhnavi (d. 1892)
  11. گر جنوں کر مجھے پابند سلاسل جاتاپاؤں رکھنے کا ٹھکانا تو کہیں مل جاتاShad Lakhnavi (d. 1892)
  12. گوش کر فریاد عاشق جان کرنالۂ بلبل پہ اے گل کان کرShad Lakhnavi (d. 1892)
  13. لب بہ لب نبت العنب ہر دم رہےدور دور جام مے جم جم رہےShad Lakhnavi (d. 1892)
  14. میں وہ بے چارہ ہوں جس سے بے کسی مانوس ہےجو ہتھیلی ہاتھ میں ہے اک کف افسوس ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
  15. وقت تزئیں جو دکھائے وہ صفا سینے کومنہ دکھانے کی نہ پھر جا رہے آئینے کوShad Lakhnavi (d. 1892)
  16. وہ مے پرست ہوں بدلی نہ جب نظر آئیسمٹ گئیں جو سیہ کاریاں گھٹا چھائیShad Lakhnavi (d. 1892)
  17. ہر شب خیال غیر کے مارے الگ تھلگآتے ہیں خواب میں وہ ہمارے الگ تھلگShad Lakhnavi (d. 1892)
  18. ہم سے دو چار بزم میں دھیان اور کی طرفآنکھ اس طرف لگائی ہے کان اور کی طرفShad Lakhnavi (d. 1892)
  19. ہم وہ نالاں ہیں بولی ٹھولی میںبلبلوں کو جو لیں ٹھٹھولی میںShad Lakhnavi (d. 1892)
  20. یہ صنم بھی گھٹور کتنے ہیںبت بنے سن رہے ہیں جتنے ہیںShad Lakhnavi (d. 1892)
  21. اس نے افشاں جو چنی رات کو تنہا ہو کرآسماں ٹوٹ پڑا مجھ پہ ستارہ ہو کرShad Lakhnavi (d. 1892)
  22. اہل ایماں سے نہ کافر سے کہواے بتو لیکن خدا لگتی کہوShad Lakhnavi (d. 1892)
  23. بوسہ زلف دوتا کا دوروحوں بلائیں صدقہ دوShad Lakhnavi (d. 1892)
  24. بولنا بادہ کشوں سے نہ ذرا اے واعظکان پکڑوں گا جو قلقل کو سنا اے واعظShad Lakhnavi (d. 1892)
  25. پاس اس بت کے جو غیر آ کے کوئی بیٹھ گیادرد اٹھا یا مرے جس میں کہ جی بیٹھ گیاShad Lakhnavi (d. 1892)
  26. تو وہ ہندوستاں میں لالا ہےجس کا داغی غلام لالا ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
  27. جس کے ہم بیمار ہیں غم نے اسے بھی راندہ ہےہو چکا درماں مسیحا آپ ہی درماندہ ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
  28. جوں سبزہ رہے اگتے ہی پیروں کے تلے ہمبرسات کے موسم میں بھی پھولے نہ پھلے ہمShad Lakhnavi (d. 1892)
  29. جی جاؤں جو بند ناطقہ ہوخاموش کہیں یہ بولتا ہوShad Lakhnavi (d. 1892)
  30. دنیا میں قصر و ایواں بے فائدہ بنایاعقبیٰ انہیں بنائی منعم تو کیا بنایاShad Lakhnavi (d. 1892)
  31. لب جاں بخش پر جو نالہ ہےاب مسیحا بھی مرنے والا ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
  32. لنج وہ پائے طلب ہوں کہیں جا ہی نہ سکوںشل یہ ہو دست ہوس ہاتھ بڑھا ہی نہ سکوںShad Lakhnavi (d. 1892)
  33. ناتواں وہ ہوں نگاہوں میں سما ہی نہ سکوںبھروں آنکھوں میں نظر سا نظر آ ہی نہ سکوںShad Lakhnavi (d. 1892)
  34. نظروں سے گلوں کی نونہالوشبنم کی طرح گرا سنبھالوShad Lakhnavi (d. 1892)
  35. ہم نے باندھے ہیں اس پہ کیا کیا جوڑپر چلا ایک بھی نہ فقرا جوڑShad Lakhnavi (d. 1892)
  36. ہوئی تو جا دل میں اس صنم کی نماز میں سر جھکا جھکا کرحرم سے بت خانے تک تو پہنچا خدا خدا کر خدا خدا کرShad Lakhnavi (d. 1892)
  37. آرزوئیں جل گئیں شوق فراواں جل گیابجھ گیا دل زندگی کا ساز و ساماں جل گیاQaisar Amravatwi (1894–1966)
  38. برنگ نکہت گل ہے چمن میں آشیاں اپناکسی کے راز داں ہم ہیں نہ کوئی رازداں اپناQaisar Amravatwi (1894–1966)
  39. خدا کو بھولے نہ جب تک ہمیں خدا نہ ملایہ مدعا بھی بجز ترک مدعا نہ ملاQaisar Amravatwi (1894–1966)
  40. شمع محفل ہو کے بھی گرویدۂ محفل نہیںمیں ہوں دنیا میں مگر دنیا میں میرا دل نہیںQaisar Amravatwi (1894–1966)
  41. عشق کیا ہے غم ہستی کا فنا ہو جاناپیکر خاک کا مٹ مٹ کے خدا ہو جاناQaisar Amravatwi (1894–1966)
  42. فریب رنگ نہ دے جلوۂ بہار مجھےعزیز تر ہیں چمن میں گلوں سے خار مجھےQaisar Amravatwi (1894–1966)
  43. امنگیں دل سے اٹھ اٹھ کر تخیل میں سنورتی ہیںمرے ظلمت کدہ میں عرش سے حوریں اترتی ہیںQaisar Amravatwi (1894–1966)
  44. بہت عزیز ہے مجھ کو وطن عزیز وطنوطن کی خاک ہے عنبر مری نگاہوں میںQaisar Amravatwi (1894–1966)
  45. تجھ کو بھی کچھ خبر ہے دنیا بنانے والےیہ کارگاہ ہستی بازار اوج و پستیQaisar Amravatwi (1894–1966)
  46. نہ اضطراب غزنوی نہ مشرب ایاز ہےنہ خون میں حرارتیں نہ سوز ہے نہ ساز ہےQaisar Amravatwi (1894–1966)
  47. یوں تو سب کچھ کہا کرے کوئیوہ نہ مانیں تو کیا کرے کوئیBabu Ladli Lal Laeq (b. 1894)
  48. آج بھی قافلۂ عشق رواں ہے کہ جو تھاوہی میل اور وہی سنگ نشاں ہے کہ جو تھاFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  49. آنکھوں میں جو بات ہو گئی ہےاک شرح حیات ہو گئی ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  50. آئی ہے کچھ نہ پوچھ قیامت کہاں کہاںاف لے گئی ہے مجھ کو محبت کہاں کہاںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)