Poetry
Poet
Meter
- شرطیں جو بندگی میں لگانا روا ہوااے واعظوں نماز نہ ٹھہری جوا ہواShad Lakhnavi (d. 1892)
- شکل مژگاں نہ خار کی سی ہےہم نے تاڑی کٹار کی سی ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
- شگفتہ ہوتے ہی مرجھا گئی کلی افسوسبہار باغ ادھر آئی ادھر گئی افسوسShad Lakhnavi (d. 1892)
- عشق رخ و زلف میں کیا کوچشب آ کے رہا سحر کیا کوچShad Lakhnavi (d. 1892)
- عشق میں زور عمر بھر ماراعاقبت کوہ کن نے سر ماراShad Lakhnavi (d. 1892)
- غیروں میں حنا وہ مل رہا ہےنیرنگ جہاں بدل رہا ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
- قول اس دروغ گو کا کوئی بھی سچ ہوا ہےواعظ جہان بھر کا جھوٹا لباریا ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
- کہتے ہیں نالۂ حزیں سن کےسو دل گداز ہیں دھن کےShad Lakhnavi (d. 1892)
- کیا کہوں غنچۂ گل نیم دہاں ہے کچھ اورلا کلامی ہے وہاں بات یہاں ہے کچھ اورShad Lakhnavi (d. 1892)
- کیا یہ بت بیٹھیں گے خدا بن کراللہ اللہ اے برہمن کرShad Lakhnavi (d. 1892)
- گر جنوں کر مجھے پابند سلاسل جاتاپاؤں رکھنے کا ٹھکانا تو کہیں مل جاتاShad Lakhnavi (d. 1892)
- گوش کر فریاد عاشق جان کرنالۂ بلبل پہ اے گل کان کرShad Lakhnavi (d. 1892)
- لب بہ لب نبت العنب ہر دم رہےدور دور جام مے جم جم رہےShad Lakhnavi (d. 1892)
- میں وہ بے چارہ ہوں جس سے بے کسی مانوس ہےجو ہتھیلی ہاتھ میں ہے اک کف افسوس ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
- وقت تزئیں جو دکھائے وہ صفا سینے کومنہ دکھانے کی نہ پھر جا رہے آئینے کوShad Lakhnavi (d. 1892)
- وہ مے پرست ہوں بدلی نہ جب نظر آئیسمٹ گئیں جو سیہ کاریاں گھٹا چھائیShad Lakhnavi (d. 1892)
- ہر شب خیال غیر کے مارے الگ تھلگآتے ہیں خواب میں وہ ہمارے الگ تھلگShad Lakhnavi (d. 1892)
- ہم سے دو چار بزم میں دھیان اور کی طرفآنکھ اس طرف لگائی ہے کان اور کی طرفShad Lakhnavi (d. 1892)
- ہم وہ نالاں ہیں بولی ٹھولی میںبلبلوں کو جو لیں ٹھٹھولی میںShad Lakhnavi (d. 1892)
- یہ صنم بھی گھٹور کتنے ہیںبت بنے سن رہے ہیں جتنے ہیںShad Lakhnavi (d. 1892)
- اس نے افشاں جو چنی رات کو تنہا ہو کرآسماں ٹوٹ پڑا مجھ پہ ستارہ ہو کرShad Lakhnavi (d. 1892)
- اہل ایماں سے نہ کافر سے کہواے بتو لیکن خدا لگتی کہوShad Lakhnavi (d. 1892)
- بوسہ زلف دوتا کا دوروحوں بلائیں صدقہ دوShad Lakhnavi (d. 1892)
- بولنا بادہ کشوں سے نہ ذرا اے واعظکان پکڑوں گا جو قلقل کو سنا اے واعظShad Lakhnavi (d. 1892)
- پاس اس بت کے جو غیر آ کے کوئی بیٹھ گیادرد اٹھا یا مرے جس میں کہ جی بیٹھ گیاShad Lakhnavi (d. 1892)
- تو وہ ہندوستاں میں لالا ہےجس کا داغی غلام لالا ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
- جس کے ہم بیمار ہیں غم نے اسے بھی راندہ ہےہو چکا درماں مسیحا آپ ہی درماندہ ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
- جوں سبزہ رہے اگتے ہی پیروں کے تلے ہمبرسات کے موسم میں بھی پھولے نہ پھلے ہمShad Lakhnavi (d. 1892)
- جی جاؤں جو بند ناطقہ ہوخاموش کہیں یہ بولتا ہوShad Lakhnavi (d. 1892)
- دنیا میں قصر و ایواں بے فائدہ بنایاعقبیٰ انہیں بنائی منعم تو کیا بنایاShad Lakhnavi (d. 1892)
- لب جاں بخش پر جو نالہ ہےاب مسیحا بھی مرنے والا ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
- لنج وہ پائے طلب ہوں کہیں جا ہی نہ سکوںشل یہ ہو دست ہوس ہاتھ بڑھا ہی نہ سکوںShad Lakhnavi (d. 1892)
- ناتواں وہ ہوں نگاہوں میں سما ہی نہ سکوںبھروں آنکھوں میں نظر سا نظر آ ہی نہ سکوںShad Lakhnavi (d. 1892)
- نظروں سے گلوں کی نونہالوشبنم کی طرح گرا سنبھالوShad Lakhnavi (d. 1892)
- ہم نے باندھے ہیں اس پہ کیا کیا جوڑپر چلا ایک بھی نہ فقرا جوڑShad Lakhnavi (d. 1892)
- ہوئی تو جا دل میں اس صنم کی نماز میں سر جھکا جھکا کرحرم سے بت خانے تک تو پہنچا خدا خدا کر خدا خدا کرShad Lakhnavi (d. 1892)
- آرزوئیں جل گئیں شوق فراواں جل گیابجھ گیا دل زندگی کا ساز و ساماں جل گیاQaisar Amravatwi (1894–1966)
- برنگ نکہت گل ہے چمن میں آشیاں اپناکسی کے راز داں ہم ہیں نہ کوئی رازداں اپناQaisar Amravatwi (1894–1966)
- خدا کو بھولے نہ جب تک ہمیں خدا نہ ملایہ مدعا بھی بجز ترک مدعا نہ ملاQaisar Amravatwi (1894–1966)
- شمع محفل ہو کے بھی گرویدۂ محفل نہیںمیں ہوں دنیا میں مگر دنیا میں میرا دل نہیںQaisar Amravatwi (1894–1966)
- عشق کیا ہے غم ہستی کا فنا ہو جاناپیکر خاک کا مٹ مٹ کے خدا ہو جاناQaisar Amravatwi (1894–1966)
- فریب رنگ نہ دے جلوۂ بہار مجھےعزیز تر ہیں چمن میں گلوں سے خار مجھےQaisar Amravatwi (1894–1966)
- امنگیں دل سے اٹھ اٹھ کر تخیل میں سنورتی ہیںمرے ظلمت کدہ میں عرش سے حوریں اترتی ہیںQaisar Amravatwi (1894–1966)
- بہت عزیز ہے مجھ کو وطن عزیز وطنوطن کی خاک ہے عنبر مری نگاہوں میںQaisar Amravatwi (1894–1966)
- تجھ کو بھی کچھ خبر ہے دنیا بنانے والےیہ کارگاہ ہستی بازار اوج و پستیQaisar Amravatwi (1894–1966)
- نہ اضطراب غزنوی نہ مشرب ایاز ہےنہ خون میں حرارتیں نہ سوز ہے نہ ساز ہےQaisar Amravatwi (1894–1966)
- یوں تو سب کچھ کہا کرے کوئیوہ نہ مانیں تو کیا کرے کوئیBabu Ladli Lal Laeq (b. 1894)
- آج بھی قافلۂ عشق رواں ہے کہ جو تھاوہی میل اور وہی سنگ نشاں ہے کہ جو تھاFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- آنکھوں میں جو بات ہو گئی ہےاک شرح حیات ہو گئی ہےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- آئی ہے کچھ نہ پوچھ قیامت کہاں کہاںاف لے گئی ہے مجھ کو محبت کہاں کہاںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)