Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. اف مری زندگی کی رات اف مری زندگی کے دنایسی نہ ہے کسی کی رات ایسے نہ ہیں کسی کے دنKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  2. اے اہل محبت کیا کہئے کیا چیز محبت ہوتی ہےکچھ غم کی حقیقت ہوتی ہے کچھ دل کی طبیعت ہوتی ہےKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  3. بے تاب پاس شمع کے پروانہ آ گیاکیا بات ہے کہ ہوش میں دیوانہ آ گیاKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  4. تاروں والی رات کا عالم پینے اور پلانے سےساقی نے مے کھینچ کے رکھ دی گویا دانے دانے سےKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  5. تقدیر شمع جلوۂ جانانہ بن گیاشعلہ اٹھا جو اس سے تو پردا نہ بن گیاKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  6. جس قدر ہیں حسن کی زیبائیاںاس قدر ہیں عشق کی رسوائیاںKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  7. جو کچھ تھا مقدر میں گوارا تو نہیں تھادر پردہ کہیں ان کا اشارا تو نہیں تھاKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  8. چاک سینے کا بہ انداز جگر ہو کہ نہ ہواور پھر لذت جاں ذوق اثر ہو کہ نہ ہوKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  9. حسن حجاب آشنا جانب بام آ گیابادۂ تہ نشین جام تا لب جام آ گیاKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  10. زبان شمع کھلتی ہے نہ کچھ پروانہ کہتا ہےمگر سارا زمانہ بزم کا افسانہ کہتا ہےKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  11. سو داغ تمناؤں کے ہم کھائے ہوئے ہیںگل جتنے ہیں اس باغ میں مرجھائے ہوئے ہیںKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  12. عمر کار جہاں سے گزری ہےگردش آسماں سے گزری ہےKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  13. کر کے دل نالاں سے مرے ساز کسی نےدی ہے مجھے پردے سے یہ آواز کسی نےKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  14. کہو دیر و حرم یا نام اپنا آستاں رکھ دوسر تسلیم خم ہے تم جہاں چاہو وہاں رکھ دوKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  15. گو یوم بدر معرکۂ کار زار تھااس شکل میں وہ آیت پروردگار تھاKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  16. یہ دل کی بات ہے کس نے کہی ہےمحبت خود سراسر آگہی ہےKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  17. یہ دھوکا ہو نہ ہو امید ہی معلوم ہوتی ہےکہ مجھ کو دور سے کچھ روشنی معلوم ہوتی ہےKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  18. ادھر تو طول دیا ہے امید کو اس نےادھر حیات عطا کی ہے مختصر مجھ کوKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  19. اٹھنے کو تو اٹھا ہوں محفل سے تری لیکناب دل کو یہ دھڑکا ہے جاؤں تو کدھر جاؤںHadi Machlishahri (1890–1961)
  20. اس بے وفا کی بزم سے چشم خیال میںاک خواب آرزو کا لیے جا رہا ہوں میںHadi Machlishahri (1890–1961)
  21. اشک غم عقدہ کشائے خلش جاں نکلاجس کو دشوار میں سمجھا تھا وہ آساں نکلاHadi Machlishahri (1890–1961)
  22. تم عزیز اور تمہارا غم بھی عزیزکس سے کس کا گلا کرے کوئیHadi Machlishahri (1890–1961)
  23. تمہیں بھی معلوم ہو حقیقت کچھ اپنی رنگیں ادائیوں کیکبھی اسے چھیڑ کر تو دیکھو جو لے مرے دل کی ساز میں ہےHadi Machlishahri (1890–1961)
  24. تو نہ ہو ہم نفس اگر جینے کا لطف ہی نہیںجس میں نہ تو شریک ہو موت ہے زندگی نہیںHadi Machlishahri (1890–1961)
  25. درد سا اٹھ کے نہ رہ جائے کہیں دل کے قریبمیری کشتی نہ کہیں غرق ہو ساحل کے قریبHadi Machlishahri (1890–1961)
  26. دیکھ کر شمع کے آغوش میں پروانے کودل نے بھی چھیڑ دیا شوق کے افسانے کوHadi Machlishahri (1890–1961)
  27. زباں پہ حرف شکایت ارے معاذ اللہمجھے ترے ستم صبر آزما کی قسمHadi Machlishahri (1890–1961)
  28. کھویا ہوا سا رہتا ہوں اکثر میں عشق میںیا یوں کہو کہ ہوش میں آنے لگا ہوں میںHadi Machlishahri (1890–1961)
  29. محو کمال آرزو مجھ کو بنا کے بھول جااپنے حریم ناز کا پردہ اٹھا کے بھول جاHadi Machlishahri (1890–1961)
  30. میں کیا ہوں کون ہوں یہ بھی خبر نہیں مجھ کووہ اس طرح مری ہستی پہ چھائے جاتے ہیںHadi Machlishahri (1890–1961)
  31. نظام طبیعت سے گھبرا گیا دلطبیعت کی اب برہمی چاہتا ہوںHadi Machlishahri (1890–1961)
  32. وہ کون ہے جو یہاں شادماں نہیں ملتاتری گلی میں کہیں آسماں نہیں ملتاHadi Machlishahri (1890–1961)
  33. ہزار خاک کے ذروں میں مل گیا ہوں میںمآل شوق ہوں آئینہ وفا ہوں میںHadi Machlishahri (1890–1961)
  34. اس نے اس انداز سے دیکھا مجھےزندگی بھر کا گلہ جاتا رہاHadi Machlishahri (1890–1961)
  35. ابر دیدہ کا مرے ہو جو نہ اوجھڑ پانیپھر کہیں جھڑکی لگائے نہ کہیں جھڑ پانیShad Lakhnavi (d. 1892)
  36. اے بد گماں ترا ہے گماں اور کی طرفمیرا ترے سوا نہیں دھیاں اور کی طرفShad Lakhnavi (d. 1892)
  37. تصویر مری ہے عکس ترا تو اور نہیں میں اور نہیںکر غور تو اپنے دل میں ذرا تو اور نہیں میں اور نہیںShad Lakhnavi (d. 1892)
  38. ٹوٹے جو دانت منہ کی شباہت بگڑ گئیوہ گھر ہوا خراب جہاں پھوٹ پڑ گئیShad Lakhnavi (d. 1892)
  39. جان یا دل نذر کرنا چاہئےکچھ نہ کچھ اس بت کو پوجا چاہئےShad Lakhnavi (d. 1892)
  40. جو بیچ میں آئنہ ہو پیارے ادھر ہمارے ادھر تمہارےتو پھر ہوں باہم دگر نظارے ادھر ہمارے ادھر تمہارےShad Lakhnavi (d. 1892)
  41. جو مرغ قبلہ نما بن کے آشیاں سے چلےتڑپ تڑپ کے وہیں رہ گئے جہاں سے چلےShad Lakhnavi (d. 1892)
  42. خدا ہی اس چپ کی داد دے گا کہ تربتیں روندے ڈالتے ہیںاجل کے مارے ہوئے کسی سے نہ بولتے ہیں نہ چالتے ہیںShad Lakhnavi (d. 1892)
  43. خط دیکھیے دیدار کی سوجھی یہ نئی ہےویفر کی جگہ آنکھ لفافے پہ لگی ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
  44. خلش خار ہو وحشت میں کہ غم ٹوٹ پڑےپر پھپھولوں میں الٰہی نہ مرے پھوٹ پڑےShad Lakhnavi (d. 1892)
  45. دکھا دل بھی ٹکڑے جگر ہوتے ہوتےادھر بھی اٹھا درد ادھر ہوتے ہوتےShad Lakhnavi (d. 1892)
  46. دل کی کہوں یا کہوں جگر کیکچھ بات کروں ادھر ادھر کیShad Lakhnavi (d. 1892)
  47. دیکھ کر روئے صنم کو نہ بہل جاؤں گامرتے دم لے کے سنبھالا تو سنبھل جاؤں گاShad Lakhnavi (d. 1892)
  48. ذرا دیکھنا خاکساری ہماریملی خاک میں خاک ساری ہماریShad Lakhnavi (d. 1892)
  49. سدا رنگ مینا چمکتا رہاہمیشہ یہ سبزہ لہکتا رہاShad Lakhnavi (d. 1892)
  50. سنا ہم کو آتے جو اندر سے باہرپھرے الٹے پیروں باہر سے باہرShad Lakhnavi (d. 1892)