Poetry
Hazaj Musamman Akhrab Salim
ہزج مثمن اخرب سالم- مزدور کا قصہ کیا اتنا ہی فسانہ ہےلفظوں میں فقط اس کا ہمدرد زمانہ ہےLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
- کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگیسنتے تھے وہ آئیں گے سنتے تھے سحر ہوگیFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- ہم سادہ ہی ایسے تھے کی یوں ہی پذیرائیجس بار خزاں آئی سمجھے کہ بہار آئیFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- یہ تیرگیٔ شب ہی کچھ صبح طراز آتیخود وعدۂ فردا کی چھاتی بھی دھڑک جاتیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- ساقی مئے وحدت کا وہ جام پلا مجھ کومٹ جائے خودی دل سے مل جائے خدا مجھ کوZabih Allahabadi (1918–1987)
- سنسار کی ہر شے کا اتنا ہی فسانہ ہےاک دھند سے آنا ہے اک دھند میں جانا ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- کیا جانیں تری امت کس حال کو پہنچے گیبڑھتی چلی جاتی ہے تعداد اماموں کیSahir Ludhianvi (1921–1980)
- اکیس برس گزرے آزادئ کامل کوتب جا کے کہیں ہم کو غالبؔ کا خیال آیاSahir Ludhianvi (1921–1980)
- شاید ابھی باقی ہے کچھ آگ محبت کیماضی کی چتاؤں سے اٹھتا ہے دھواں احساںؔEhsan Darbhangavi (1922–1998)
- چہرے سے نمایاں ہے ایک ایک ادا غم کیانساں جسے کہتے ہیں تصویر ہے ماتم کیChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- گھر لوٹ کے روئیں گے ماں باپ اکیلے میںمٹی کے کھلونے بھی سستے نہ تھے میلے میںQaisarul Jafri (1926–2005)
- اپنے دل مضطر کو بیتاب ہی رہنے دوچلتے رہو منزل کو نایاب ہی رہنے دوZafar Hameedi (b. 1926)
- کچھ دے اسے رخصت کر کیوں آنکھ جھکا لی ہےہاں در پہ ترے مولا! انشاؔ بھی سوالی ہےIbn-e-Insha (1927–1978)
- کھوئے ہوئے صحرا تک اے باد صبا جاناوہ خاک جنوں میری آنکھوں سے لگا جاناVaris Kirmani (1927–2012)
- یہ میری تمنا ہے پیاسوں کے میں کام آؤںیا رب مری مٹی کو پیمانہ بنا دیناRaaz Allahabadi (1929–1996)
- تسلیم ان آنکھوں کا اعجاز مسیحائیلیکن یہ بتا آخر کس کس نے شفا پائیBalraj Hairat (1930–1995)
- تاریخ نویسی کی یہ طرز پرانی ہےشاہوں کا فسانہ ہے پریوں کی کہانی ہےVaqar Siddiqui (b. 1932)
- جو خط ہے شکستہ ہے جو عکس ہے ٹوٹا ہےیا حسن ترا جھوٹا یا آئنہ جھوٹا ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
- کچھ سوچ کے پروانہ محفل میں جلا ہوگاشاید اسی مرنے میں جینے کا مزا ہوگاHafeez Banarasi (1933–2008)
- اک حسن تصور ہے جو زیست کا ساتھی ہےوہ کوئی بھی منزل ہو ہم لوگ نہیں تنہاHafeez Banarasi (1933–2008)
- جب دوستی ہوتی ہے تو دوستی ہوتی ہےاور دوستی میں کوئی احسان نہیں ہوتاGulzar (b. 1934)
- یہ کالی گھٹا اٹھ کے مے خانوں کے سر آئیگردش یہ زمانے کی پیمانوں کے سر آئیDawood Khan Raaz (b. 1934)
- دنیا کے مسائل سے ہر وقت گھرا ہونامشکل تو بہت ہوگا دنیا کا خدا ہوناDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
- ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیںان آنکھوں سے وابستہ افسانے ہزاروں ہیںShahryar (1936–2012)
- زخموں کو رفو کر لیں دل شاد کریں پھر سےخوابوں کی کوئی دنیا آباد کریں پھر سےShahryar (1936–2012)
- زخموں کے دہن بھر دے خنجر کے نشاں لے جابے سمت صداؤں کی رفعت کا گماں لے جاAajiz Hengan Ghati (1936–2008)
- دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہےمل جائے تو مٹی ہے کھو جائے تو سونا ہےNida Fazli (1938–2016)
- دیکھے تو تمدن کا بننا کوئی اردو میںبیگانہ مزاجوں کی ہے دوستی اردو میںJafar Raza (1939–2022)
- پھر لوٹ کے آیا ہوں تنہائی کے جنگل میںاک شہر تصور ہے احساس کے ہر پل میںChandrabhan Khayal (b. 1946)
- برسات کی رت آئی گھنگھور گھٹا چھائیآکاش کا من لہکا دھرتی کو ہنسی آئیJafar Malihabadi (b. 1946)
- ہر شخص کو حیرت کی تصویر بنا دے گااب کیا کسی پیکر کو آئینہ جلا دے گاGhayur Jafari (1946–2001)
- بیتے ہوئے لمحوں کو سوچا تو بہت رویاجب میں تری بستی سے گزرا تو بہت رویاRaees Ansari (b. 1951)
- کیوں شور مچاتے ہو بے کار میں پہلے سےجب جھوٹ ہی چھپتا ہے اخبار میں پہلے سےMadho Kaushik (b. 1954)
- اک غم کی کہانی ہے اوراق شکستہ پراور دل کی زبانی ہے اوراق شکستہ پرTahir Hanfi (b. 1955)
- احساس پہ بوجھل کچھ صدمات کا قصہ ہےغم صرف تخیل کے لمحات کا قصہ ہےChander Wahid (b. 1958)
- درکار تحفظ ہے پہ سانس بھی لینا ہےدیوار بناؤ تو دیوار میں در رکھناAanis Moin (1960–1986)
- اپنوں کے کرم سے گر تو دور رہا ہوتااحسان کے شعلوں سے دامن نہ جلا ہوتاNaeem Badauni (b. 1969)
- بکھرے جو خلاؤں میں یہ چاند ستارے ہیںکچھ خواب تمہارے ہیں کچھ خواب ہمارے ہیںKaleem Rahber (b. 1976)
- میں اس کی محبت سے اک دن بھی مکر جاتاکچھ اور نہیں ہوتا اس دل سے اتر جاتاTahir Azeem (b. 1978)
- جب شام اترتی ہے کیا دل پہ گزرتی ہےساحل نے بہت پوچھا خاموش رہا پانیAhmad Mushtaq
- اس زلف سے دل ہو کر آزاد بہت رویایہ سلسلۂ الفت کر یاد بہت رویاحسرت عظیم آبادی
- رکھتا ہوں طلائی رنگ اور اشک بھی موتی ہےمنعم کے بھی گھر آخر دولت یہی ہوتی ہےعشق اورنگ آبادی
- زاہد نہیں مسجد سے کم حرمت مے خانہمستوں کی جماعت میں محراب ہے پیمانہعشق اورنگ آبادی
- فاسق جو اگر عاشق دیوانہ ہوا تو کیادنیا کے مطالب کو فرزانہ ہوا تو کیاقاسم علی خان آفریدی
- سمجھایا بہت دل کو سمجھانے کو کیا کہیےآتے ہی چلے جانا کیا آنا ہے کیا جاناامداد امام اثر
- اے کشمکش الفت جی سخت پریشاں ہےمرنے کی بھی حسرت ہے جینے کا کا بھی ارماں ہےعلی منظور حیدرآبادی
- صدقے ترے ہوتے ہیں سورج بھی ستارے بھیہم کس سے کہیں دل ہے سینے میں ہمارے بھیناطق لکھنوی
- رکھنا خم گیسو میں یا دل کو رہا کرناکچھ کہہ تو سہی ظالم آخر تجھے کیا کرنانسیم بھرتپوری
- دستار فقیرانہ اک تاج سے افزوں ہےراہ طرح خم خانہ معراج سے افزوں ہےواجد علی شاہ
- شعلے سے چٹکتے ہیں ہر سانس میں خوشبو کےآئی ہے صبا شاید وہ پھول سا تن چھو کےZafar Ghauri