مزدور کا قصہ کیا اتنا ہی فسانہ ہے

Lutfullah Khan Nazmi (1907–1985)

مزدور کا قصہ کیا اتنا ہی فسانہ ہے

لفظوں میں فقط اس کا ہمدرد زمانہ ہے

دولت کے نمائندے خود ساختہ لیڈر ہیں

ہندو کو مسلماں سے کام ان کا لڑانا ہے

بہروپ بدلتے ہیں ہر روز نرالے وہ

ہر حال میں ان کو بس خیر اپنی منانا ہے

ان سے کوئی پوچھے تو لیڈر ہیں کہ ڈکٹیٹر

منزل ہے کہاں ان کی کس راہ سے جانا ہے

ہے دولت و ثروت کا کچھ نشہ جسے سن لے

سر آج غریبوں کو نخوت کا جھکانا ہے

ہشیار غریبوں کے بدلے ہوئے تیور ہیں

مانے کہ نہ مانے تو اک بار جتانا ہے

فولاد کے پنجے سے ممکن ہے رہائی کیا

کیا نام و نشاں اپنا خود تجھ کو مٹانا ہے

یہ ٹھاٹھ ترے غافل سب جس کی بدولت ہیں

کچھ اس کے لئے تجھ کو تکلیف اٹھانا ہے

مزدور کی عظمت سے انکار نہ کر غافل

مزدور کی ٹھوکر میں دنیا کا خزانہ ہے

ہم یہ بھی سمجھتے ہیں اور خوب سمجھتے ہیں

دکھ درد مٹانے کو تکلیف اٹھانا ہے

نظمیؔ یہ جگرؔ کا بھی کیا خوب ہی مصرع ہے

ہم خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانہ ہے