برسات کی رت آئی گھنگھور گھٹا چھائی
Jafar Malihabadi (b. 1946)برسات کی رت آئی گھنگھور گھٹا چھائی
آکاش کا من لہکا دھرتی کو ہنسی آئی
برسات کی رت آئی گھنگھور گھٹا چھائی
پروائی کی سن سن میں شاداب چمن جھومے
شاخوں کی کمر لچکی پھولوں کے بدن جھومے
رنگین نظاروں میں مدہوش پھواروں میں
جھرنوں کی مدھر لے پر جنگل کی فضا گائی
برسات کی رت آئی گھنگھور گھٹا چھائی
موسم کی جوانی پھر جادو سا جگاتی ہے
آواز پپیہے کی پھر ہوش اڑاتی ہے
پھر گونج اٹھے نغمے پھر جاگ اٹھے ارماں
سینے میں امنگیں پھر لینے لگیں انگڑائی
برسات کی رت آئی گھنگھور گھٹا چھائی
میدان میں بستی میں کہسار میں پانی ہے
بازار میں پانی ہے گل زار میں پانی ہے
امڈی ہوئی ندیاں ہیں چڑھتے ہوئے نالے ہیں
ہر بوند مجیرا ہے ہر موج ہے شہنائی
برسات کی رت آئی گھنگھور گھٹا چھائی