کچھ سوچ کے پروانہ محفل میں جلا ہوگا
Hafeez Banarasi (1933–2008)کچھ سوچ کے پروانہ محفل میں جلا ہوگا
شاید اسی مرنے میں جینے کا مزا ہوگا
ہر سعی تبسم پر آنسو نکل آئے ہیں
انجام طرب کوشی کیا جانئے کیا ہوگا
گمراہ محبت ہوں پوچھو نہ مری منزل
ہر نقش قدم میرا منزل کا پتا ہوگا
کیا تیرا مداوا ہو درد شب تنہائی
چپ رہئے تو بربادی کہئے تو گلا ہوگا
کترا کے تو جاتے ہو دیوانے کے رستے سے
میخانے سے مسجد تک ملتے ہیں نقوش پا
یا شیخ گئے ہوں گے یا رند گیا ہوگا
فرزانوں کا کیا کہنا ہر بات پہ لڑتے ہیں
رندوں کو حفیظؔ اتنا سمجھا دے کوئی جا کر
آپس میں لڑو گے تم واعظ کا بھلا ہوگا