ساقی مئے وحدت کا وہ جام پلا مجھ کو
Zabih Allahabadi (1918–1987)ساقی مئے وحدت کا وہ جام پلا مجھ کو
مٹ جائے خودی دل سے مل جائے خدا مجھ کو
دنیا میں ملا زاہد جنت کا مزہ مجھ کو
حاصل ہے بہاروں میں اک کیف نیا مجھ کو
دیکھا تھا ترا جلوہ جب ہوش نہ تھا مجھ کو
اب یاد نہیں آتا کچھ اس کے سوا مجھ کو
یہ مرحلے طے ہوں گے دنیا میں محبت کے
پہنچائے گا منزل تک خود ذوق فنا مجھ کو
کیا ان کو سناؤں میں افسانۂ بربادی
آتی ہے نظر اس میں کچھ دل کی خطا مجھ کو
جب اپنی حقیقت کو میں خود ہی نہیں سمجھا
کیا تیری خبر مجھ کو کیا تیرا پتہ مجھ کو
کیا ان کا بگڑتا ہے سجدوں سے ذبیحؔ اپنے
کیوں آنکھ دکھاتے ہیں نقش کف پا مجھ کو