سمجھایا بہت دل کو سمجھانے کو کیا کہیے

امداد امام اثر

سمجھایا بہت دل کو سمجھانے کو کیا کہیے

آتے ہی چلے جانا کیا آنا ہے کیا جانا

اس آنے کو کیا کہیے اس جانے کو کیا کہیے

ہے شمع ستم آرا جو کہئے اسے کہئے

پروانہ ہے پروانہ پروانے کو کیا کہیے

بت خانہ و کعبہ میں یکساں ہے ترا جلوہ

کعبہ تو ہوا کعبہ بت خانے کو کیا کہیے

کیا کیا نہ کمال انساں کرتا ہے اثرؔ پیدا

صد حیف مگر اس کے مر جانے کو کیا کہیے