Poetry
Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف- واعظ کے میں ضرور ڈرانے سے ڈر گیاجام شراب لائے بھی ساقی کدھر گیاوزیر علی صبا لکھنؤی
- دل جن کو پوجتا تھا وہ غم جاگتے رہےکل رات بت کدے میں صنم جاگتے رہےBadr Shamsi
- کتنا عجیب شہر تمنا دکھائی دےہے اتنی روشنی کہ اندھیرا دکھائی دےBadr Shamsi
- گزری ہوئی بہار کا کوئی پتا نہیںاس پیڑ میں تو ایک بھی پتا ہرا نہیںBadr Shamsi
- نادیدہ منزلوں کے پیمبر بہت ملےہم کو ہماری راہ کے پتھر بہت ملےBadr Shamsi
- وہ چاندنی وہ چاند سا پیکر اتار دےپہلو میں کوئی خواب کا منظر اتار دےBadr Shamsi
- جس ایک چاکلیٹ کا وعدہ ہے میرے ساتھسچ جانیے تو اس کی تمنا میں یہ زباںNadeem Najid
- عاشق دعا کرے تو یہی اک دعا کرےدو دل ملیں تو پھر نہ جدا ہوں خدا کرےشاہ اکبر داناپوری
- سولی چڑھے جو یار کے قد پر فدا نہ ہوپھانسی چڑھے جو قیدی زلف رسا نہ ہوامداد امام اثر
- کیوں دیکھیے نہ حسن خداداد کی طرفلازم نظر ہے گلشن ایجاد کی طرفامداد امام اثر
- آنکھوں پر آہ یاس کا پردہ سا پڑ گیادنیا اجڑ گئی کہ مرا دل اجڑ گیابیخود موہانی
- اب تو ہجوم یاس کی کچھ انتہا نہیںیعنی مجھے امید کا بھی آسرا نہیںبیخود موہانی
- پروانہ سوز شمع سے یوں باخبر نہ ہودل سے لگی نہ ہو تو زباں میں اثر نہ ہوبیخود موہانی
- جب ناز عشق حسن کے قابل نہیں رہاپھر وہ کچھ اور ہی ہے مرا دل نہیں رہابیخود موہانی
- عالم کو اس نے نقش کف پا بنا دیایعنی بنا دیا کبھی گاہے مٹا دیابیخود موہانی
- اف انتہائے شوق میں اب کیا کرے کوئیکہتے ہیں پہلے اپنی تمنا کرے کوئیبیخود موہانی
- کیوں اے خیال یار تجھے کیا خبر نہیںمیں کیوں بتاؤں درد کدھر ہے کدھر نہیںبیخود موہانی
- مچلیں گے ان کے آنے پہ جذبات سینکڑوںہنس بولنے کی ہوں گی حکایات سینکڑوںCharkh Chinioti
- ہر بات کاٹتے ہیں وہ تلوار کی طرحاحباب کا سلوک ہے اغیار کی طرحCharkh Chinioti
- اتنا طلسم یاد کے چقماق میں رہاروشن چراغ دور کسی طاق میں رہاEjaz Gul
- پیچاک عمر اپنے سنوار آئنے کے ساتھباقی کے چار دن بھی گزار آئنے کے ساتھEjaz Gul
- خاشاک سے خزاں میں رہا نام باغ کاورنہ تو ہر درخت پہ قبضہ ہے زاغ کاEjaz Gul
- مانگیں نہ ہم بہشت نہ ہو واں اگر شرابدوزخ میں ڈال دیجئے دیجے مگر شرابمیر مہدی مجروح
- دل میں اگر نہ عشق و محبت کی چاہ ہونالہ نہ درد ہو نہ فغاں ہو نہ آہ ہوPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- مرنا مریض عشق کے حق میں شفا ہوااچھا ہوا نجات ملی کیا برا ہواPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- وہ ہو علاج درد مداوا کہیں جسےایسا تو ہو کوئی کہ مسیحا کہیں جسےPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- تاریکیوں نے خود کو ملایا ہے دھوپ میںسایہ جو شام کا نظر آیا ہے دھوپ میںTahir Faraz
- غم اس کا کچھ نہیں ہے کہ میں کام آ گیاغم یہ ہے قاتلوں میں ترا نام آ گیاTahir Faraz
- گوشے بدل بدل کے ہر اک رات کاٹ دیکچے مکاں میں اب کے بھی برسات کاٹ دیTahir Faraz
- اک شخص پر وقار تھا جانے کدھر گیاآنکھوں کا جو خمار تھا جانے کدھر گیاBaharunnisa Bahar
- گھائل وجود سوچ کی بیساکھیاں لئےملنے چلا ہے گزرے ہوئے ماہ و سال سےBaharunnisa Bahar
- درپن دیا ہوں دل کا میں اس دل ربا کے ہاتھدرپن میں وہ پیا ہے وہ درپن پیا کے ہاتھداؤد اورنگ آبادی
- دل میں خیال یار ہے جاسوس کی نمطرکھتا ہوں اس کوں ننگ سوں ناموس کی نمطداؤد اورنگ آبادی
- مجھ ساتھ سیر باغ کوں اے نوبہار چلبلبل ہے انتظار میں اے گل عذار چلداؤد اورنگ آبادی
- ظلمت کشی کا قصد کیا اور چل پڑےمٹھی میں جگنوؤں کو لیا اور چل پڑےEhtisham ul Haq Siddiqui
- مجھ میں سے رفتہ رفتہ گھٹاتا رہا مجھےوہ تھوڑا تھوڑا روز چراتا رہا مجھےEhtisham ul Haq Siddiqui
- ناکام ولولوں کو لیے بھاگتے رہےہم سر پہ دلدلوں کو لئے بھاگتے رہےEhtisham ul Haq Siddiqui
- ہم شہر نطق کے تھے وہیں کے نہیں رہےوہ چپ لگی ہمیں کہ کہیں کے نہیں رہےEhtisham ul Haq Siddiqui
- دیکھا کسی کا ہم نے نہ ایسا سنا دماغان سنگ دل بتوں کا ہے اللہ کیا دماغسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- رہ کر مکان میں مرے مہمان جائیےمیرا بھی ایک بار کہا مان جائیےسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- پوچھو نہ کچھ ثبوت خرد میں نے کیا دیاایک مست ناز کو دل بے مدعا دیاعلی منظور حیدرآبادی
- غم کا گماں یقین طرب سے بدل گیااحساس عشق حسن کے سانچے میں ڈھل گیاعلی منظور حیدرآبادی
- اب زندگی میں ہوش کا امکان تو گیالیکن تری نگاہ کو پہچان تو گیامنیر بھوپالی
- جب برق پاش جلوۂ جانانہ بن گیافرزانہ تھا وہی کہ جو دیوانہ بن گیامنیر بھوپالی
- دل میں ہجوم شوق و تمنا لیے ہوئےجاتا ہوں تیری بزم سے کیا کیا لیے ہوئےمنیر بھوپالی
- کن الجھنوں میں چھوڑ گئی جستجو مجھےمیں آرزو کو ڈھونڈھتا ہوں آرزو مجھےمنیر بھوپالی
- بلقیس پاسباں ہے یہ کس کی جناب ہےمریم درود خواں ہے یہ کس کی جناب ہےمرزا سلامت علی دبیر
- اے شمع تجھ پہ رات یہ بھاری ہے جس طرحمیں نے تمام عمر گزاری ہے اس طرحناطق لکھنوی
- جو میرے دل میں سہو تری یاد سے ہوانام اس کا محو عالم ایجاد سے ہواناطق لکھنوی
- بیتاب ہیں کسی کی نگاہیں نقاب میںہیں بجلیاں کہ کوند رہی ہیں سحاب میںنسیم بھرتپوری