گزری ہوئی بہار کا کوئی پتا نہیں

Badr Shamsi

گزری ہوئی بہار کا کوئی پتا نہیں

اس پیڑ میں تو ایک بھی پتا ہرا نہیں

میں خود بھی اپنے گوش سماعت پہ بار ہوں

وہ حرف ہوں جسے ترا لہجہ ملا نہیں

اس بھیڑ میں ہیں سب وہی دیرینہ اجنبی

میرے لئے تو ایک بھی چہرہ نیا نہیں

ناراض مجھ سے شہر کے بچے ہیں اس لئے

میں ان کے ہاتھ بن کے کھلونا رہا نہیں

پھینکا ہے کس کے ہاتھ نے پتھر میں دیکھ لو

پتھر سے بڑھ کے اور کوئی آئنہ نہیں

کس حوصلہ سے خود کو سمیٹے ہوئے ہوں میں

ٹوٹا ہوا ضرور ہوں بکھرا ہوا نہیں

اس سے بچھڑ کے ملتی کوئی روشنی تو کیا

اے بدرؔ مجھ کو خود مرا سایہ ملا نہیں