مجھ میں سے رفتہ رفتہ گھٹاتا رہا مجھے
Ehtisham ul Haq Siddiquiمجھ میں سے رفتہ رفتہ گھٹاتا رہا مجھے
وہ تھوڑا تھوڑا روز چراتا رہا مجھے
میرے پروں میں میری زمیں باندھنے کے بعد
وہ اپنی کہکشاں میں بلاتا رہا مجھے
ہر رات آنسوؤں سے بھگویا مرا بدن
ہر صبح دھوپ دے کے سکھاتا رہا مجھے
سگریٹ پیتا میں بھی لبوں سے لگا رہا
وہ بھی دھواں بنا کے اڑاتا رہا مجھے
اس کو تھی دھن کہ مجھ کو بنائے گا وہ گلاب
کانٹوں کے بیچ روز سجاتا رہا مجھے
پانی کی طرح میں بھی تھا مفت اس کے ہاتھ میں
اور وہ بھی بے دریغ بہاتا رہا مجھے
اس کو ہی میں نے ڈس لیا اک روز آخرش
جو اپنی آستیں میں چھپاتا رہا مجھے
اس کے نمک سے تھا مرا پیکر بنا ہوا
بارش سے اس لئے وہ بچاتا رہا مجھے