وہ ہو علاج درد مداوا کہیں جسے
Pandit Jagmohan Nath Raina Shauqوہ ہو علاج درد مداوا کہیں جسے
ایسا تو ہو کوئی کہ مسیحا کہیں جسے
پرسان حال کوئی نہیں جس کا نام لیں
اک درد دل ہی ہے کہ شناسا کہیں جسے
مشکل یہ ہے کہ آپ تو سنتے ہی کچھ نہیں
روداد عشق وہ کہ فسانہ کہیں جسے
جلوے سے دیکھیے کہیں آنکھیں جھپک نہ جائیں
یوں چشم وا ہو ذوق تماشا کہیں جسے
اللہ ایسی دے تجھے توفیق اے جنوں
سر میں وہ دھن سمائے کہ سودا کہیں جسے
سب حسرتوں کو خاک میں ظالم ملا دیا
اب دل میں کیا رہا کہ تمنا کہیں جسے
یہ بار زندگی کہیں ہلکا نہ شوقؔ ہو
اتنا تو ہو کہ حاصل دنیا کہیں جسے