دل جن کو پوجتا تھا وہ غم جاگتے رہے

Badr Shamsi

دل جن کو پوجتا تھا وہ غم جاگتے رہے

کل رات بت کدے میں صنم جاگتے رہے

اس وقت بھی کہ سارا زمانہ تھا محو خواب

ہم وارثان لوح و قلم جاگتے رہے

لٹتے رہے ہیں شہر نگاراں میں رات بھر

حالانکہ اہل دیر و حرم جاگتے رہے

آتی رہی ہمیں تری آہٹ تمام رات

سنتے رہے صدائے قدم جاگتے رہے

ان سے چھڑی ہوئی تھیں انہی کی حکایتیں

کل ساری رات خواب میں ہم جاگتے رہے

الجھے رہے جو میرے تصور سے رات بھر

خوابیدہ گیسوؤں کے وہ خم جاگتے رہے

راتوں کو ہم نے یوں بھی کیا دن کبھی کبھی

پیتے رہے شراب الم جاگتے رہے

چھیڑی جو بدرؔ ہم نے شب غم کی داستاں

تارے قریب دیدۂ نم جاگتے رہے