ہم شہر نطق کے تھے وہیں کے نہیں رہے

Ehtisham ul Haq Siddiqui

ہم شہر نطق کے تھے وہیں کے نہیں رہے

وہ چپ لگی ہمیں کہ کہیں کے نہیں رہے

ہم خواب دیکھتے تھے بہت آسمان کے

آخر میں یہ ہوا کہ زمیں کے نہیں رہے

ہم میں تھے جانے کون سے کانٹے اگے ہوئے

سب کے رہے ہیں آپ ہمیں کے نہیں رہے

دل کو جھکا کے دل سے ادا کر دئے گئے

سجدے رہین صرف جبیں کے نہیں رہے

دو چار لوگ میرے ہوں میرے لئے بہت

سو فیصدی تو عرش نشیں کے نہیں رہے