تاریکیوں نے خود کو ملایا ہے دھوپ میں

Tahir Faraz

تاریکیوں نے خود کو ملایا ہے دھوپ میں

سایہ جو شام کا نظر آیا ہے دھوپ میں

شاید مجھی میں یادوں کی شمعیں جلی تھیں رات

پگھلا ہوا سا خود کو جو پایا ہے دھوپ میں

کل شب کا تاپمان چلو اس سے پوچھ لیں

وہ آدمی جو کانپتا آیا ہے دھوپ میں

اس زاویے سے دیکھیے آئینۂ حیات

جس زاویے سے میں نے لگایا ہے دھوپ میں

چمکے گا چاند بن کے یہی رات میں فرازؔ

پتھر کا جس کو تم نے بتایا ہے دھوپ میں