مرنا مریض عشق کے حق میں شفا ہوا

Pandit Jagmohan Nath Raina Shauq

مرنا مریض عشق کے حق میں شفا ہوا

اچھا ہوا نجات ملی کیا برا ہوا

راہ عدم کی منزل اول میں کیا ہوا

جو آیا خاک ڈال کے مجھ پر ہوا ہوا

نشتر کو ڈوبنے نہ دیا اے رگ جنوں

کیا اس کا ایک قطرۂ خوں میں بھلا ہوا

جس دل کے داغ سے ہمیں تھی چشم روشنی

رہتا ہے وہ تو شام ہی سے خود بجھا ہوا

بس ایسی چارہ سازی سے اے شوقؔ باز آئے

جس سے کہ درد اور بھی دل میں سوا ہوا