کتنا عجیب شہر تمنا دکھائی دے

Badr Shamsi

کتنا عجیب شہر تمنا دکھائی دے

ہے اتنی روشنی کہ اندھیرا دکھائی دے

تعبیر کس سے پوچھئے اس خواب شوق کی

جو خواب دیکھیے تو ادھورا دکھائی دے

اب عام ہو چلی ہے یہی رسم زندگی

ہر شخص اپنے درد کا مارا دکھائی دے

ابھرے مرے دریچۂ دل سے وہ چاند جب

سورج بھی سامنے ہو تو ڈھلتا دکھائی دے

اس شہر آرزو میں عجب خوش نظر ہیں لوگ

بخشے جو دل کو درد مسیحا دکھائی دے

جس انجمن میں سب کی نظر ہو تری طرف

اس انجمن میں کون کسی کا دکھائی دے

کتنی عجیب چوٹ ہے یہ دل کی چوٹ بھی

بھرنے لگے جو زخم وہ گہرا دکھائی دے

تجھ سے الگ نہیں ہے کوئی رنگ دل کشی

ہر رنگ تیرے رنگ میں ڈھلتا دکھائی دے

دل میں نہ ہو جو داغ تمنا کی روشنی

اے بدرؔ زندگی میں اندھیرا دکھائی دے