ناکام ولولوں کو لیے بھاگتے رہے
Ehtisham ul Haq Siddiquiناکام ولولوں کو لیے بھاگتے رہے
ہم سر پہ دلدلوں کو لئے بھاگتے رہے
نادیدہ منزلوں کی طرف ہم تمام عمر
حاجت کے قافلوں کو لیے بھاگتے رہے
وہ خوف تھا کہ درد کا احساس ہی نہ تھا
تلووں میں آبلوں کو لیے بھاگتے رہے
فرصت کہاں تھی دفن کریں میتوں کو ہم
بس مردہ حوصلوں کو لیے بھاگتے رہے
چھوڑا نہیں انہیں انہیں حل بھی نہیں کیا
ہم صرف مسئلوں کو لیے بھاگتے رہے
پہلے تمام شہروں کو جنگل صفت کیا
پھر سر پہ جنگلوں کو لیے بھاگتے رہے