ظلمت کشی کا قصد کیا اور چل پڑے
Ehtisham ul Haq Siddiquiظلمت کشی کا قصد کیا اور چل پڑے
مٹھی میں جگنوؤں کو لیا اور چل پڑے
آتی رہے گی موت کو آنا جہاں پہ ہے
ہم نے تو اپنا زہر پیا اور چل پڑے
صحرا سے شہر آنے میں اور اہتمام کیا
دامن کا اپنے چاک سیا اور چل پڑے
ہم سے بدن بدوشوں کا رخت سفر کہاں
بس اپنا خاکدان لیا اور چل پڑے
عجلت تھی ہم کو چاند کا کیا کرتے انتظار
آنکھوں کو شب چراغ کیا اور چل پڑے