Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf

مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. جاتی ہے دھوپ اجلے پروں کو سمیٹ کےزخموں کو اب گنوں گا میں بستر پہ لیٹ کےShakeb Jalali (1934–1966)
  2. جب تک غم جہاں کے حوالے ہوئے نہیںہم زندگی کے جاننے والے ہوئے نہیںShakeb Jalali (1934–1966)
  3. جس دم قفس میں موسم گل کی خبر گئیاک بار قیدیوں پہ قیامت گزر گئیShakeb Jalali (1934–1966)
  4. روشن ہیں دل کے داغ نہ آنکھوں کے شب چراغکیوں شام ہی سے بجھ گئے محفل کے سب چراغShakeb Jalali (1934–1966)
  5. ساحل تمام اشک ندامت سے اٹ گیادریا سے کوئی شخص تو پیاسا پلٹ گیاShakeb Jalali (1934–1966)
  6. مرجھا کے کالی جھیل میں گرتے ہوئے بھی دیکھسورج ہوں میرا رنگ مگر دن ڈھلے بھی دیکھShakeb Jalali (1934–1966)
  7. میں شاخ سے اڑا تھا ستاروں کی آس میںمرجھا کے آ گرا ہوں مگر سرد گھاس میںShakeb Jalali (1934–1966)
  8. وہ سامنے تھا پھر بھی کہاں سامنا ہوارہتا ہے اپنے نور میں سورج چھپا ہواShakeb Jalali (1934–1966)
  9. ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پربہتر ہے خاک ڈالیے ایسی اڑان پرShakeb Jalali (1934–1966)
  10. بد قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہو سکاہم جس پہ مر مٹے وہ ہمارا نہ ہو سکاShakeb Jalali (1934–1966)
  11. یہ جلوہ گاہ ناز تماشائیوں سے ہےرونق جہاں کی انجمن آرائیوں سے ہےShakeb Jalali (1934–1966)
  12. بنتی نہیں بات تو پھر بات کیا کریںبگڑے ہوئے ہیں شہر کے حالات کیا کریںBakhsh Layalpuri (1934–2002)
  13. قاتل ہوا خموش تو تلوار بول اٹھیمقتل میں خون گرم کی ہر دھار بول اٹھیBakhsh Layalpuri (1934–2002)
  14. دنیا سجی ہوئی ہے جو بازار کی طرحمیں بھی چلوں گا آج خریدار کی طرحKabir Ahmad Jaisi (1934–2013)
  15. پہنا بھی کچھ زمانے نے ایسا لباس ہےماحول پہ زمانے کے غیرت اداس ہےDawood Khan Raaz (b. 1934)
  16. یہ زندگی کی ہار سے پہلے گزر گئیاک داستاں بہار سے پہلے گزر گئیDawood Khan Raaz (b. 1934)
  17. دیکھیں قریب سے بھی تو اچھا دکھائی دےاک آدمی تو شہر میں ایسا دکھائی دےZafar Gorakhpuri (1935–2017)
  18. اے دشت شب گزار تری آس کا ہرنکھائی میں یاس کی جو گرا رو پڑی پونM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
  19. گھوموں نہیں تو کیا میں کہیں جا کے پڑ رہوںبیمار آدمی کی طرح رات کاٹ دوںM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
  20. تنہائیاں جو راس نہ آئیں تو کیا کریںزخموں کی انجمن نہ سجائیں تو کیا کریںRaees Akhtar (b. 1935)
  21. دنیا سے آج جذب وفا مانگتا ہوں میںیہ جرم ہے اگر تو سزا مانگتا ہوں میںRaees Akhtar (b. 1935)
  22. اس درجہ مطمئن ہیں تری دوستی سے ہممانگے اگر تو جان بھی دیں گے خوشی سے ہمDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
  23. ہمدردیاں کسی سے کسی سے دعا ملییا رب صلہ ملا ہے مجھے یا سزا ملیDarshan Dayal Parwaz (b. 1935)
  24. مقتل کے اس سکوت پہ حیرت ہے کیا کہیںایسی فضا تو ہو کہ جسے کربلا کہیںIftikhar Aazmi (1935–1977)
  25. غالبؔ کی ہر زمیں میں خرافات چاہئےتخریب کچھ تو بہر ملاقات چاہئےT N Raaz (b. 1935)
  26. پہلے نہائی اوس میں پھر آنسوؤں میں راتیوں بوند بوند اتری ہمارے گھروں میں راتShahryar (1936–2012)
  27. دل چیز کیا ہے آپ مری جان لیجئےبس ایک بار میرا کہا مان لیجئےShahryar (1936–2012)
  28. کس فکر کس خیال میں کھویا ہوا سا ہےدل آج تیری یاد کو بھولا ہوا سا ہےShahryar (1936–2012)
  29. کس کس طرح سے مجھ کو نہ رسوا کیا گیاغیروں کا نام میرے لہو سے لکھا گیاShahryar (1936–2012)
  30. ہم پڑھ رہے تھے خواب کے پرزوں کو جوڑ کےآندھی نے یہ طلسم بھی رکھ ڈالا توڑ کےShahryar (1936–2012)
  31. یہ اک شجر کہ جس پہ نہ کانٹا نہ پھول ہےسائے میں اس کے بیٹھ کے رونا فضول ہےShahryar (1936–2012)
  32. اے اہل شہر آؤ چلو اس طرف چلوکہانیوں کی دھند سے آگے ذرا ادھرShahryar (1936–2012)
  33. آنکھوں میں تیری دیکھ رہا ہوں میں اپنی شکلیہ کوئی واہمہ یہ کوئی خواب تو نہیںShahryar (1936–2012)
  34. ہے آج یہ گلہ کہ اکیلا ہے شہریارؔترسو گے کل ہجوم میں تنہائی کے لئےShahryar (1936–2012)
  35. اب ٹوٹنے ہی والا ہے تنہائی کا حصاراک شخص چیختا ہے سمندر کے آر پارAdil Mansuri (1936–2008)
  36. ابلاغ کے بدن میں تجسس کا سلسلہٹوٹا ہے چشم خواب میں حیرت کا آئنہAdil Mansuri (1936–2008)
  37. پہلو کے آر پار گزرتا ہوا سا ہواک شخص آئنے میں اترتا ہوا سا ہوAdil Mansuri (1936–2008)
  38. پھیلے ہوئے ہیں شہر میں سائے نڈھال سےجائیں کہاں نکل کے خیالوں کے جال سےAdil Mansuri (1936–2008)
  39. جلنے لگے خلا میں ہواؤں کے نقش پاسورج کا ہاتھ شام کی گردن پہ جا پڑاAdil Mansuri (1936–2008)
  40. جیتا ہے صرف تیرے لیے کون مر کے دیکھاک روز میری جان یہ حرکت بھی کر کے دیکھAdil Mansuri (1936–2008)
  41. چاروں طرف سے موت نے گھیرا ہے زیست کواور اس کے ساتھ حکم کہ اب زندگی کروAdil Mansuri (1936–2008)
  42. حج کا سفر ہے اس میں کوئی ساتھ بھی تو ہوپردہ نشیں سے اپنی ملاقات بھی تو ہوAdil Mansuri (1936–2008)
  43. دروازہ بند دیکھ کے میرے مکان کاجھونکا ہوا کا کھڑکی کے پردے ہلا گیاAdil Mansuri (1936–2008)
  44. سوئے ہوئے پلنگ کے سائے جگا گیاکھڑکی کھلی تو آسماں کمرے میں آ گیاAdil Mansuri (1936–2008)
  45. عاشق تھے شہر میں جو پرانے شراب کےہیں ان کے دل میں وسوسے اب احتساب کےAdil Mansuri (1936–2008)
  46. گانٹھی ہے اس نے دوستی اک پیش امام سےعادلؔ اٹھا لو ہاتھ دعا و سلام سےAdil Mansuri (1936–2008)
  47. ہر خواب کالی رات کے سانچے میں ڈھال کریہ کون چھپ گیا ہے ستارے اچھال کرAdil Mansuri (1936–2008)
  48. ہونے کو یوں تو شہر میں اپنا مکان تھانفرت کا ریگزار مگر درمیان تھاAdil Mansuri (1936–2008)
  49. یہ پھیلتی شکستگی احساس کی طرفدریا رواں دواں ہیں مری پیاس کی طرفAdil Mansuri (1936–2008)
  50. تنہائی مل سکی نہ گھڑی بھر کسی کے ساتھسایہ بھی میرے ساتھ رہا روشنی کے ساتھTahir Tilhari (b. 1936)