تنہائیاں جو راس نہ آئیں تو کیا کریں

Raees Akhtar (b. 1935)

تنہائیاں جو راس نہ آئیں تو کیا کریں

زخموں کی انجمن نہ سجائیں تو کیا کریں

اس دور کشمکش میں محبت کا نام بھی

دانستہ لوگ بھول نہ جائیں تو کیا کریں

اک آسرا تو چاہئے جینے کے واسطے

حالات کا فریب نہ کھائیں تو کیا کریں

دل بھی یہاں بہت ہیں سوالات بھی بہت

لیکن کوئی جواب نہ پائیں تو کیا کریں

واقف ہیں ہم بھی عشق کے آداب سے مگر

ویراں ہے پہلی شام سے مقتل کے راستے

گھبرا کے مے کدہ کو نہ جائیں تو کیا کریں

دم گھٹ رہے ہیں تلخ حقائق کے زہر سے

خوابوں کی بستیاں نہ بسائیں تو کیا کریں

دنیا کے ہر فریب کو احسان مان کر

دنیا کا حوصلہ نہ بڑھائیں تو کیا کریں

تفسیر کائنات تو آسان ہے رئیسؔ

اپنے ہی دل کا راز نہ پائیں تو کیا کریں