Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf Musakkan
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن- کہیں یہ درد کا دھاگا بھی یوں سلجھتا ہےگرہ جو کھولیں تو دل اور بھی الجھتا ہےQamar Iqbal (1944–1988)
- مری خطا سے بڑی تیری درگزر ہوگیتو پھر دعا مری کاہے کو بے اثر ہوگیBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- یہ میرا شیشۂ دل بے مثال ہے پیارےدکھائی دے ہے کہاں جتنا بال ہے پیارےBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- ابھی ضمیر میں تھوڑی سی جان باقی ہےابھی ہمارا کوئی امتحان باقی ہےJaved Akhtar (b. 1945)
- بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں کوئی رونے کاہمیں یہ شوق ہے کیا آستیں بھگونے کاJaved Akhtar (b. 1945)
- جب آئینہ کوئی دیکھو اک اجنبی دیکھوکہاں پہ لائی ہے تم کو یہ زندگی دیکھوJaved Akhtar (b. 1945)
- مثال اس کی کہاں ہے کوئی زمانے میںکہ سارے کھونے کے غم پائے ہم نے پانے میںJaved Akhtar (b. 1945)
- میں پا سکا نہ کبھی اس خلش سے چھٹکاراوہ مجھ سے جیت بھی سکتا تھا جانے کیوں ہاراJaved Akhtar (b. 1945)
- سلگ اٹھی ہے کوئی آگ سی ہواؤں میںبدل گئی ہیں بہاریں مری خزاؤں میںJaleel 'Aali' (b. 1945)
- گزر گیا جو مرے دل پہ سانحہ بن کراتر گیا وہ مری روح میں خدا بن کرJaleel 'Aali' (b. 1945)
- ہوا بھی زور پہ تھی تیز تھا بہاؤ بھیلڑی ہے خوب مگر کاغذی سی ناؤ بھیJaleel 'Aali' (b. 1945)
- ہوا نصیب بنایا سفر لکھا اس نےتمام عمر پھروں در بدر لکھا اس نےSaba Ikram (b. 1945)
- سکوت شام سے گھبرا نہ جائے آخر تومرے دیار سے گزری جو اے کرن پھر توNaseer Turabi (1945–2021)
- حصول رزق کے ارماں نکالتے گزریحیات ریت سے سکے ہی ڈھالتے گزریYaqoob Tasawwur (b. 1945)
- دلوں میں درد ہی اتنا کشید رکھا ہےکہ آنکھ آنکھ نے آنسو کشید رکھا ہےYaqoob Tasawwur (b. 1945)
- ہر ایک گام پہ اک بت بنانا چاہا ہےجسے بھی چاہا بہت کافرانہ چاہا ہےYaqoob Tasawwur (b. 1945)
- جو ملنے آتا ہے مل کر جدا بھی ہوتا ہےوہ خوش مزاج ہے لیکن خفا بھی ہوتا ہےHabeeb Kaifi (b. 1945)
- وہ شب شکن سے نیا آفتاب نکلا ہےلہو کی شاخ پہ تنہا گلاب نکلا ہےZafar Hashmi (b. 1945)
- صدا کا صوت کا اقرار ہونا باقی ہےابھی تو درد کا اظہار ہونا باقی ہےM. K. Asar (b. 1945)
- فنا کی سمت چلا ہوں بقا میں کیا جانوںیہ کیسی بات ہے اس کی رضا میں کیا جانوںM. K. Asar (b. 1945)
- مکاں سے لپٹی سسکتی ہوئی صدا کیا ہےگلی گلی میں ہے جو ان دنوں بلا کیا ہےM. K. Asar (b. 1945)
- کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میںوہ شوخ رنگ بھی دھیمے پڑے ہواؤں میںFahmida Riaz (1946–2018)
- یہ پیرہن جو مری روح کا اتر نہ سکاتو نخ بہ نخ کہیں پیوست ریشۂ دل تھاFahmida Riaz (1946–2018)
- کبھی جو شب کی سیاہی سے ناگہاں گزرےہم اہل ظرف ہر اک سوچ پر گراں گزرےChandrabhan Khayal (b. 1946)
- اگر قریب سے دیکھو تو جان لو گی تمجہاں ہے سانپ کی صورت وجود سے لپٹاChandrabhan Khayal (b. 1946)
- دلوں میں درد دماغوں میں کشمکش کا دھواںجبیں پہ خاک نگاہوں میں غم کی تاریکیChandrabhan Khayal (b. 1946)
- قریب صبح صدائے شکست جاں ابھریلبوں کا زہر اچانک پگھل گیا آخرChandrabhan Khayal (b. 1946)
- ابھی تو دل میں ہے جو کچھ بیان کرنا ہےیہ بعد میں سہی کس بات سے مکرنا ہےIftikhar Naseem (1946–2011)
- سزا ہی دی ہے دعاؤں میں بھی اثر دے کرزبان لے گیا میری مجھے نظر دے کرIftikhar Naseem (1946–2011)
- کسی کے حق میں سہی فیصلہ ہوا تو ہےمرا نہیں وہ کسی شخص کا ہوا تو ہےIftikhar Naseem (1946–2011)
- گرے ہیں لفظ ورق پہ لہو لہو ہو کرمحاذ زیست سے لوٹا ہوں سرخ رو ہو کرIftikhar Naseem (1946–2011)
- لگے گا اجنبی اب کیوں نہ شہر بھر مجھ کوبچا گیا ہے نظر تو بھی دیکھ کر مجھ کوIftikhar Naseem (1946–2011)
- مرے نقوش ترے ذہن سے مٹا دے گامرا سفر ہی مرے فاصلے بڑھا دے گاIftikhar Naseem (1946–2011)
- نہ جانے کب وہ پلٹ آئیں در کھلا رکھناگئے ہوئے کے لیے دل میں کچھ جگہ رکھناIftikhar Naseem (1946–2011)
- ہے جستجو اگر اس کو ادھر بھی آئے گانکل پڑا ہے تو پھر میرے گھر بھی آئے گاIftikhar Naseem (1946–2011)
- اگرچہ پھول یہ اپنے لیے خریدے ہیںکوئی جو پوچھے تو کہہ دوں گا اس نے بھیجے ہیںIftikhar Naseem (1946–2011)
- ترا ہے کام کماں میں اسے لگانے تکیہ تیر خود ہی چلا جائے گا نشانے تکIftikhar Naseem (1946–2011)
- میں شیشہ کیوں نہ بنا آدمی ہوا کیونکرمجھے تو عمر لگی ٹوٹ پھوٹ جانے تکIftikhar Naseem (1946–2011)
- نہ ہو کہ قرب ہی پھر ربط مرگ بن جائےوو اب ملے تو ذرا اس ث فاصلہ رکھناIftikhar Naseem (1946–2011)
- کبھی کبھی کوئی چہرہ یہ کام کرتا ہےمرے بدن میں لہو تیز گام کرتا ہےZafar Sahbai (b. 1946)
- یہاں غموں کی ہے بہتات اور خوشی کم ہےچلے بھی آؤ کہ اپنی بھی زندگی کم ہےM. I. Sajid (b. 1946)
- میرے گلے پہ جمے ہاتھ میرے اپنے ہیںجو لڑ رہے ہیں مرے ساتھ میرے اپنے ہیںZafar Khan Niyazi (b. 1946)
- ترے بدن سے جو چھو کر ادھر بھی آتا ہےمثال رنگ وہ جھونکا نظر بھی آتا ہےMohsin Naqvi (1947–1996)
- خود اپنے دل میں خراشیں اتارنا ہوں گیابھی تو جاگ کے راتیں گزارنا ہوں گیMohsin Naqvi (1947–1996)
- عجیب خوف مسلط تھا کل حویلی پرلہو چراغ جلاتی رہی ہتھیلی پرMohsin Naqvi (1947–1996)
- عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کےمیں شرمسار ہوا تیری جستجو کر کےMohsin Naqvi (1947–1996)
- فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گابدن دریدہ کسی کو لباس کیا دے گاMohsin Naqvi (1947–1996)
- میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گامروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گاMohsin Naqvi (1947–1996)
- ہر ایک شب یوں ہی دیکھیں گی سوئے در آنکھیںتجھے گنوا کے نہ سوئیں گی عمر بھر آنکھیںMohsin Naqvi (1947–1996)
- یہ کہہ گئے ہیں مسافر لٹے گھروں والےڈریں ہوا سے پرندے کھلے پروں والےMohsin Naqvi (1947–1996)