Poetry
Khafif Musaddas Makhbun Mahzuf Maqtu'
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع- شام غم کی سحر نہیں ہوتییا ہمیں کو خبر نہیں ہوتیIbn-e-Insha (1927–1978)
- لوگ پوچھیں گے کیوں اداس ہو تماور جو دل میں آئے سو کہیو!Ibn-e-Insha (1927–1978)
- آ گئی یاد شام ڈھلتے ہیبجھ گیا دل چراغ جلتے ہیMunir Niazi (1928–2006)
- آئنہ اب جدا نہیں کرتاقید میں ہوں رہا نہیں کرتاMunir Niazi (1928–2006)
- اور ہیں کتنی منزلیں باقیجان کتنی ہے جسم میں باقیMunir Niazi (1928–2006)
- دل کو حال قرار میں دیکھایہ کرشمہ بہار میں دیکھاMunir Niazi (1928–2006)
- پھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں گےہم ترا شہر چھوڑ جائیں گےHabib Jalib (1928–1993)
- خوب آزادئ صحافت ہےنظم لکھنے پہ بھی قیامت ہےHabib Jalib (1928–1993)
- دشمنوں نے جو دشمنی کی ہےدوستوں نے بھی کیا کمی کی ہےHabib Jalib (1928–1993)
- شعر سے شاعری سے ڈرتے ہیںکم نظر روشنی سے ڈرتے ہیںHabib Jalib (1928–1993)
- وہی حالات ہیں فقیروں کےدن پھرے ہیں فقط وزیروں کےHabib Jalib (1928–1993)
- ہم نے دل سے تجھے سدا ماناتو بڑا تھا تجھے بڑا ماناHabib Jalib (1928–1993)
- اک حسیں گاؤں تھا کنار آبکتنا شاداب تھا دیار آبHabib Jalib (1928–1993)
- کھویا کھویا اداس سا ہوگاتم سے وہ شخص جب ملا ہوگاBalraj Komal (1928–2013)
- تیری قربت کی لذت شیریںجسم و جاں میں اترتی جاتی ہےBalraj Komal (1928–2013)
- رات پھر جانب سحر آئیکتنی دشوار رہ گزر آئیGhalib Ahmad (b. 1928)
- کیا کرے حال دل بیاں کوئینہ رہا زیب داستاں کوئیGhalib Ahmad (b. 1928)
- کیسا جشن بہار ہے اپناگل پہ سایہ بھی بار ہے اپناKailash Mahir (b. 1928)
- ہر خوشی کو غموں میں ڈھالا ہےآرزوؤں کا بول بالا ہےKailash Mahir (b. 1928)
- جب کبھی ذکر یار کا آیاایک جھونکا بہار کا آیاA G Josh (1928–2007)
- چاندنی رات میں اندھیرا تھااس طرح بے بسی نے گھیرا تھاA G Josh (1928–2007)
- کوئی شکوہ تو زیر لب ہوگاکچھ خموشی کا بھی سبب ہوگاA G Josh (1928–2007)
- ذہن سے دل کا بار اترا ہےپیرہن تار تار اترا ہےIbn-e-Safi (1928–1980)
- یوں ہی وابستگی نہیں ہوتیدور سے دوستی نہیں ہوتیIbn-e-Safi (1928–1980)
- آپ اپنے کو معتبر کر لیںملنے والوں کے دل میں گھر کر لیںGhani Ejaz (1929–2010)
- آدمی کی حیات مٹھی بھریعنی کل کائنات مٹھی بھرGhani Ejaz (1929–2010)
- تشنہ لب ہوں اداس بیٹھا ہوںمیں سمندر کے پاس بیٹھا ہوںGhani Ejaz (1929–2010)
- تیر جیسے کمان سے نکلاحرف حق تھا زبان سے نکلاGhani Ejaz (1929–2010)
- درد دل میں مقیم کس کا ہےکام یہ ہے عظیم کس کا ہےEhsan Jafri (1929–2002)
- یوں تو وہ ہر کسی سے ملتی ہےہم سے اپنی خوشی سے ملتی ہےMustafa Zaidi (1930–1970)
- اس کو کرنوں نے دی ہے تابانیاس کو مہتاب نے سنوارا ہےMustafa Zaidi (1930–1970)
- اس کے چہرے کا عکس پڑتا ہےاس کی باتیں شروع ہوتی ہیںMustafa Zaidi (1930–1970)
- سن کے لوگوں کے زہر سے فقرےدیکھ کر اپنے گھر کی بربادیMustafa Zaidi (1930–1970)
- صرف کہہ دوں کہ ناؤ ڈوب گئییا بتاؤں کہ کیسے ڈوبی تھیMustafa Zaidi (1930–1970)
- مجھ کو چپ چاپ اس طرح مت دیکھمیرے بستر کی سلوٹیں مت کھولMustafa Zaidi (1930–1970)
- وقت کے ساتھ لوگ کہتے تھےزخم دل بھی تمہارے ہوں گے دورMustafa Zaidi (1930–1970)
- فرہادMustafa Zaidi (1930–1970)
- سیاہ لہوMustafa Zaidi (1930–1970)
- دور کی آوازMustafa Zaidi (1930–1970)
- ہر طرف انبساط ہے اے دلاور ترے گھر میں رات ہے اے دلMustafa Zaidi (1930–1970)
- ایک شام (مصطفٰی زیدی)Mustafa Zaidi (1930–1970)
- کون ہے اس کے بانکپن کی طرححسن ہے حسن انجمن کی طرحDaur Afridi (1930–1992)
- میں نے چاہت کے گیت گائے تھےسننے والے مگر پرائے تھےDaur Afridi (1930–1992)
- خود کو اعلیٰ صفات لکھ دیتےکچھ تو وہ دل کی بات لکھ دیتےYas Chandpuri (b. 1930)
- سب کے ہاتھوں میں آج پتھر ہےاور نشانے پہ بس مرا سر ہےYas Chandpuri (b. 1930)
- محو ہے حسن کی اداؤں میںعشق رہتا ہے کن ہواؤں میںParkash Nath Parvez (b. 1930)
- اپنی آنکھیں ہیں اور تمہارے خوابکتنے پر کیف ہیں ہمارے خوابRaees Rampuri (b. 1930)
- ان سے جب بھی کلام ہوتا ہےدل کو دل سے پیام ہوتا ہےLateef Nazi (b. 1930)
- غم جاناں عیاں نہ ہو جائےزندگی رائیگاں نہ ہو جائےLateef Nazi (b. 1930)
- کیوں ہو خاموش ماجرا کیا ہےکچھ بتاؤ تمہیں ہوا کیا ہےLateef Nazi (b. 1930)