Poetry
- آسماں کچھ بھی نہیں اب تیرے کرنے کے لیےمیں نے سب تیاریاں کر لی ہیں مرنے کے لیےShahryar (1936–2012)
- آندھیاں آتی تھیں لیکن کبھی ایسا نہ ہواخوف کے مارے جدا شاخ سے پتا نہ ہواShahryar (1936–2012)
- آہٹ جو سنائی دی ہے ہجر کی شب کی ہےیہ رائے اکیلی میری نہیں ہے سب کی ہےShahryar (1936–2012)
- امید سے کم چشم خریدار میں آئےہم لوگ ذرا دیر سے بازار میں آئےShahryar (1936–2012)
- ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیںان آنکھوں سے وابستہ افسانے ہزاروں ہیںShahryar (1936–2012)
- ایسے ہجر کے موسم کب کب آتے ہیںتیرے علاوہ یاد ہمیں سب آتے ہیںShahryar (1936–2012)
- بھولی بسری یادوں کی بارات نہیں آئیاک مدت سے ہجر کی لمبی رات نہیں آئیShahryar (1936–2012)
- بے تاب ہیں اور عشق کا دعویٰ نہیں ہم کوآوارہ ہیں اور دشت کا سودا نہیں ہم کوShahryar (1936–2012)
- پہلے نہائی اوس میں پھر آنسوؤں میں راتیوں بوند بوند اتری ہمارے گھروں میں راتShahryar (1936–2012)
- تجھ سے بچھڑے ہیں تو اب کس سے ملاتی ہے ہمیںزندگی دیکھیے کیا رنگ دکھاتی ہے ہمیںShahryar (1936–2012)
- تو کہاں ہے تجھ سے اک نسبت تھی میری ذات کوکب سے پلکوں پر اٹھائے پھر رہا ہوں رات کوShahryar (1936–2012)
- تیری سانسیں مجھ تک آتے بادل ہو جائیںمیرے جسم کے سارے علاقے جل تھل ہو جائیںShahryar (1936–2012)
- تیرے سوا بھی کوئی مجھے یاد آنے والا تھامیں ورنہ یوں ہجر سے کب گھبرانے والا تھاShahryar (1936–2012)
- تیرے وعدے کو کبھی جھوٹ نہیں سمجھوں گاآج کی رات بھی دروازہ کھلا رکھوں گاShahryar (1936–2012)
- جاگتا ہوں میں ایک اکیلا دنیا سوتی ہےکتنی وحشت ہجر کی لمبی رات میں ہوتی ہےShahryar (1936–2012)
- جب بھی ملتی ہے مجھے اجنبی لگتی کیوں ہےزندگی روز نئے رنگ بدلتی کیوں ہےShahryar (1936–2012)
- جدا ہوئے وہ لوگ کہ جن کو ساتھ میں آنا تھااک ایسا موڑ بھی ہماری رات میں آنا تھاShahryar (1936–2012)
- جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نےاس بہانے سے مگر دیکھ لی دنیا ہم نےShahryar (1936–2012)
- جو چاہتی دنیا ہے وہ مجھ سے نہیں ہوگاسمجھوتا کوئی خواب کے بدلے نہیں ہوگاShahryar (1936–2012)
- جہاں میں ہونے کو اے دوست یوں تو سب ہوگاترے لبوں پہ مرے لب ہوں ایسا کب ہوگاShahryar (1936–2012)
- دل پریشاں ہو مگر آنکھ میں حیرانی نہ ہوخواب دیکھو کہ حقیقت سے پشیمانی نہ ہوShahryar (1936–2012)
- دل چیز کیا ہے آپ مری جان لیجئےبس ایک بار میرا کہا مان لیجئےShahryar (1936–2012)
- دل میں اترے گی تو پوچھے گی جنوں کتنا ہےنوک خنجر ہی بتائے گی کہ خوں کتنا ہےShahryar (1936–2012)
- دل میں رکھتا ہے نہ پلکوں پہ بٹھاتا ہے مجھےپھر بھی اک شخص میں کیا کیا نظر آتا ہے مجھےShahryar (1936–2012)
- زخموں کو رفو کر لیں دل شاد کریں پھر سےخوابوں کی کوئی دنیا آباد کریں پھر سےShahryar (1936–2012)
- زندگی جب بھی تری بزم میں لاتی ہے ہمیںیہ زمیں چاند سے بہتر نظر آتی ہے ہمیںShahryar (1936–2012)
- زندگی جیسی توقع تھی نہیں کچھ کم ہےہر گھڑی ہوتا ہے احساس کہیں کچھ کم ہےShahryar (1936–2012)
- سبھی کو غم ہے سمندر کے خشک ہونے کاکہ کھیل ختم ہوا کشتیاں ڈبونے کاShahryar (1936–2012)
- سیاہ رات نہیں لیتی نام ڈھلنے کایہی تو وقت ہے سورج ترے نکلنے کاShahryar (1936–2012)
- سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہےاس شہر میں ہر شخص پریشان سا کیوں ہےShahryar (1936–2012)
- شدید پیاس تھی پھر بھی چھوا نہ پانی کومیں دیکھتا رہا دریا تری روانی کوShahryar (1936–2012)
- شکوہ کوئی دریا کی روانی سے نہیں ہےرشتہ ہی مری پیاس کا پانی سے نہیں ہےShahryar (1936–2012)
- طلسم ختم چلو آہ بے اثر کا ہواوہ دیکھو جسم برہنہ ہر اک شجر کا ہواShahryar (1936–2012)
- عجیب سانحہ مجھ پر گزر گیا یارومیں اپنے سائے سے کل رات ڈر گیا یاروShahryar (1936–2012)
- کس فکر کس خیال میں کھویا ہوا سا ہےدل آج تیری یاد کو بھولا ہوا سا ہےShahryar (1936–2012)
- کس کس طرح سے مجھ کو نہ رسوا کیا گیاغیروں کا نام میرے لہو سے لکھا گیاShahryar (1936–2012)
- کہاں تک وقت کے دریا کو ہم ٹھہرا ہوا دیکھیںیہ حسرت ہے کہ ان آنکھوں سے کچھ ہوتا ہوا دیکھیںShahryar (1936–2012)
- مشعل درد پھر ایک بار جلا لی جائےجشن ہو جائے ذرا دھوم مچا لی جائےShahryar (1936–2012)
- نظر جو کوئی بھی تجھ سا حسیں نہیں آتاکسی کو کیا مجھے خود بھی یقیں نہیں آتاShahryar (1936–2012)
- وہ بے وفا ہے ہمیشہ ہی دل دکھاتا ہےمگر ہمیں تو وہی ایک شخص بھاتا ہےShahryar (1936–2012)
- ہم پڑھ رہے تھے خواب کے پرزوں کو جوڑ کےآندھی نے یہ طلسم بھی رکھ ڈالا توڑ کےShahryar (1936–2012)
- ہنس رہا تھا میں بہت گو وقت وہ رونے کا تھاسخت کتنا مرحلہ تجھ سے جدا ہونے کا تھاShahryar (1936–2012)
- ہوا کا زور ہی کافی بہانہ ہوتا ہےاگر چراغ کسی کو جلانا ہوتا ہےShahryar (1936–2012)
- یہ اک شجر کہ جس پہ نہ کانٹا نہ پھول ہےسائے میں اس کے بیٹھ کے رونا فضول ہےShahryar (1936–2012)
- یہ جب ہے کہ اک خواب سے رشتہ ہے ہمارادن ڈھلتے ہی دل ڈوبنے لگتا ہے ہماراShahryar (1936–2012)
- یہ جگہ اہل جنوں اب نہیں رہنے والیفرصت عشق میسر کہاں پہلے والیShahryar (1936–2012)
- یہ قافلے یادوں کے کہیں کھو گئے ہوتےاک پل بھی اگر بھول سے ہم سو گئے ہوتےShahryar (1936–2012)
- یہ کیا جگہ ہے دوستو یہ کون سا دیار ہےحد نگاہ تک جہاں غبار ہی غبار ہےShahryar (1936–2012)
- یہ کیا ہوا کہ طبیعت سنبھلتی جاتی ہےترے بغیر بھی یہ رات ڈھلتی جاتی ہےShahryar (1936–2012)
- یہ کیا ہے محبت میں تو ایسا نہیں ہوتامیں تجھ سے جدا ہو کے بھی تنہا نہیں ہوتاShahryar (1936–2012)