Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. ابر دیدہ کا مرے ہو جو نہ اوجھڑ پانیپھر کہیں جھڑکی لگائے نہ کہیں جھڑ پانیShad Lakhnavi (d. 1892)
  2. اے بد گماں ترا ہے گماں اور کی طرفمیرا ترے سوا نہیں دھیاں اور کی طرفShad Lakhnavi (d. 1892)
  3. تصویر مری ہے عکس ترا تو اور نہیں میں اور نہیںکر غور تو اپنے دل میں ذرا تو اور نہیں میں اور نہیںShad Lakhnavi (d. 1892)
  4. ٹوٹے جو دانت منہ کی شباہت بگڑ گئیوہ گھر ہوا خراب جہاں پھوٹ پڑ گئیShad Lakhnavi (d. 1892)
  5. جان یا دل نذر کرنا چاہئےکچھ نہ کچھ اس بت کو پوجا چاہئےShad Lakhnavi (d. 1892)
  6. جو بیچ میں آئنہ ہو پیارے ادھر ہمارے ادھر تمہارےتو پھر ہوں باہم دگر نظارے ادھر ہمارے ادھر تمہارےShad Lakhnavi (d. 1892)
  7. جو مرغ قبلہ نما بن کے آشیاں سے چلےتڑپ تڑپ کے وہیں رہ گئے جہاں سے چلےShad Lakhnavi (d. 1892)
  8. خدا ہی اس چپ کی داد دے گا کہ تربتیں روندے ڈالتے ہیںاجل کے مارے ہوئے کسی سے نہ بولتے ہیں نہ چالتے ہیںShad Lakhnavi (d. 1892)
  9. خط دیکھیے دیدار کی سوجھی یہ نئی ہےویفر کی جگہ آنکھ لفافے پہ لگی ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
  10. خلش خار ہو وحشت میں کہ غم ٹوٹ پڑےپر پھپھولوں میں الٰہی نہ مرے پھوٹ پڑےShad Lakhnavi (d. 1892)
  11. دکھا دل بھی ٹکڑے جگر ہوتے ہوتےادھر بھی اٹھا درد ادھر ہوتے ہوتےShad Lakhnavi (d. 1892)
  12. دل کی کہوں یا کہوں جگر کیکچھ بات کروں ادھر ادھر کیShad Lakhnavi (d. 1892)
  13. دیکھ کر روئے صنم کو نہ بہل جاؤں گامرتے دم لے کے سنبھالا تو سنبھل جاؤں گاShad Lakhnavi (d. 1892)
  14. ذرا دیکھنا خاکساری ہماریملی خاک میں خاک ساری ہماریShad Lakhnavi (d. 1892)
  15. سدا رنگ مینا چمکتا رہاہمیشہ یہ سبزہ لہکتا رہاShad Lakhnavi (d. 1892)
  16. سنا ہم کو آتے جو اندر سے باہرپھرے الٹے پیروں باہر سے باہرShad Lakhnavi (d. 1892)
  17. شرطیں جو بندگی میں لگانا روا ہوااے واعظوں نماز نہ ٹھہری جوا ہواShad Lakhnavi (d. 1892)
  18. شکل مژگاں نہ خار کی سی ہےہم نے تاڑی کٹار کی سی ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
  19. شگفتہ ہوتے ہی مرجھا گئی کلی افسوسبہار باغ ادھر آئی ادھر گئی افسوسShad Lakhnavi (d. 1892)
  20. عشق رخ و زلف میں کیا کوچشب آ کے رہا سحر کیا کوچShad Lakhnavi (d. 1892)
  21. عشق میں زور عمر بھر ماراعاقبت کوہ کن نے سر ماراShad Lakhnavi (d. 1892)
  22. غیروں میں حنا وہ مل رہا ہےنیرنگ جہاں بدل رہا ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
  23. قول اس دروغ گو کا کوئی بھی سچ ہوا ہےواعظ جہان بھر کا جھوٹا لباریا ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
  24. کہتے ہیں نالۂ حزیں سن کےسو دل گداز ہیں دھن کےShad Lakhnavi (d. 1892)
  25. کیا کہوں غنچۂ گل نیم دہاں ہے کچھ اورلا کلامی ہے وہاں بات یہاں ہے کچھ اورShad Lakhnavi (d. 1892)
  26. کیا یہ بت بیٹھیں گے خدا بن کراللہ اللہ اے برہمن کرShad Lakhnavi (d. 1892)
  27. گر جنوں کر مجھے پابند سلاسل جاتاپاؤں رکھنے کا ٹھکانا تو کہیں مل جاتاShad Lakhnavi (d. 1892)
  28. گوش کر فریاد عاشق جان کرنالۂ بلبل پہ اے گل کان کرShad Lakhnavi (d. 1892)
  29. لب بہ لب نبت العنب ہر دم رہےدور دور جام مے جم جم رہےShad Lakhnavi (d. 1892)
  30. میں وہ بے چارہ ہوں جس سے بے کسی مانوس ہےجو ہتھیلی ہاتھ میں ہے اک کف افسوس ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
  31. وقت تزئیں جو دکھائے وہ صفا سینے کومنہ دکھانے کی نہ پھر جا رہے آئینے کوShad Lakhnavi (d. 1892)
  32. وہ مے پرست ہوں بدلی نہ جب نظر آئیسمٹ گئیں جو سیہ کاریاں گھٹا چھائیShad Lakhnavi (d. 1892)
  33. ہر شب خیال غیر کے مارے الگ تھلگآتے ہیں خواب میں وہ ہمارے الگ تھلگShad Lakhnavi (d. 1892)
  34. ہم سے دو چار بزم میں دھیان اور کی طرفآنکھ اس طرف لگائی ہے کان اور کی طرفShad Lakhnavi (d. 1892)
  35. ہم وہ نالاں ہیں بولی ٹھولی میںبلبلوں کو جو لیں ٹھٹھولی میںShad Lakhnavi (d. 1892)
  36. یہ صنم بھی گھٹور کتنے ہیںبت بنے سن رہے ہیں جتنے ہیںShad Lakhnavi (d. 1892)
  37. اس نے افشاں جو چنی رات کو تنہا ہو کرآسماں ٹوٹ پڑا مجھ پہ ستارہ ہو کرShad Lakhnavi (d. 1892)
  38. اہل ایماں سے نہ کافر سے کہواے بتو لیکن خدا لگتی کہوShad Lakhnavi (d. 1892)
  39. بوسہ زلف دوتا کا دوروحوں بلائیں صدقہ دوShad Lakhnavi (d. 1892)
  40. بولنا بادہ کشوں سے نہ ذرا اے واعظکان پکڑوں گا جو قلقل کو سنا اے واعظShad Lakhnavi (d. 1892)
  41. پاس اس بت کے جو غیر آ کے کوئی بیٹھ گیادرد اٹھا یا مرے جس میں کہ جی بیٹھ گیاShad Lakhnavi (d. 1892)
  42. تو وہ ہندوستاں میں لالا ہےجس کا داغی غلام لالا ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
  43. جس کے ہم بیمار ہیں غم نے اسے بھی راندہ ہےہو چکا درماں مسیحا آپ ہی درماندہ ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
  44. جوں سبزہ رہے اگتے ہی پیروں کے تلے ہمبرسات کے موسم میں بھی پھولے نہ پھلے ہمShad Lakhnavi (d. 1892)
  45. جی جاؤں جو بند ناطقہ ہوخاموش کہیں یہ بولتا ہوShad Lakhnavi (d. 1892)
  46. دنیا میں قصر و ایواں بے فائدہ بنایاعقبیٰ انہیں بنائی منعم تو کیا بنایاShad Lakhnavi (d. 1892)
  47. لب جاں بخش پر جو نالہ ہےاب مسیحا بھی مرنے والا ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
  48. لنج وہ پائے طلب ہوں کہیں جا ہی نہ سکوںشل یہ ہو دست ہوس ہاتھ بڑھا ہی نہ سکوںShad Lakhnavi (d. 1892)
  49. ناتواں وہ ہوں نگاہوں میں سما ہی نہ سکوںبھروں آنکھوں میں نظر سا نظر آ ہی نہ سکوںShad Lakhnavi (d. 1892)
  50. نظروں سے گلوں کی نونہالوشبنم کی طرح گرا سنبھالوShad Lakhnavi (d. 1892)