Poetry
- ابر دیدہ کا مرے ہو جو نہ اوجھڑ پانیپھر کہیں جھڑکی لگائے نہ کہیں جھڑ پانیShad Lakhnavi (d. 1892)
- اے بد گماں ترا ہے گماں اور کی طرفمیرا ترے سوا نہیں دھیاں اور کی طرفShad Lakhnavi (d. 1892)
- تصویر مری ہے عکس ترا تو اور نہیں میں اور نہیںکر غور تو اپنے دل میں ذرا تو اور نہیں میں اور نہیںShad Lakhnavi (d. 1892)
- ٹوٹے جو دانت منہ کی شباہت بگڑ گئیوہ گھر ہوا خراب جہاں پھوٹ پڑ گئیShad Lakhnavi (d. 1892)
- جان یا دل نذر کرنا چاہئےکچھ نہ کچھ اس بت کو پوجا چاہئےShad Lakhnavi (d. 1892)
- جو بیچ میں آئنہ ہو پیارے ادھر ہمارے ادھر تمہارےتو پھر ہوں باہم دگر نظارے ادھر ہمارے ادھر تمہارےShad Lakhnavi (d. 1892)
- جو مرغ قبلہ نما بن کے آشیاں سے چلےتڑپ تڑپ کے وہیں رہ گئے جہاں سے چلےShad Lakhnavi (d. 1892)
- خدا ہی اس چپ کی داد دے گا کہ تربتیں روندے ڈالتے ہیںاجل کے مارے ہوئے کسی سے نہ بولتے ہیں نہ چالتے ہیںShad Lakhnavi (d. 1892)
- خط دیکھیے دیدار کی سوجھی یہ نئی ہےویفر کی جگہ آنکھ لفافے پہ لگی ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
- خلش خار ہو وحشت میں کہ غم ٹوٹ پڑےپر پھپھولوں میں الٰہی نہ مرے پھوٹ پڑےShad Lakhnavi (d. 1892)
- دکھا دل بھی ٹکڑے جگر ہوتے ہوتےادھر بھی اٹھا درد ادھر ہوتے ہوتےShad Lakhnavi (d. 1892)
- دل کی کہوں یا کہوں جگر کیکچھ بات کروں ادھر ادھر کیShad Lakhnavi (d. 1892)
- دیکھ کر روئے صنم کو نہ بہل جاؤں گامرتے دم لے کے سنبھالا تو سنبھل جاؤں گاShad Lakhnavi (d. 1892)
- ذرا دیکھنا خاکساری ہماریملی خاک میں خاک ساری ہماریShad Lakhnavi (d. 1892)
- سدا رنگ مینا چمکتا رہاہمیشہ یہ سبزہ لہکتا رہاShad Lakhnavi (d. 1892)
- سنا ہم کو آتے جو اندر سے باہرپھرے الٹے پیروں باہر سے باہرShad Lakhnavi (d. 1892)
- شرطیں جو بندگی میں لگانا روا ہوااے واعظوں نماز نہ ٹھہری جوا ہواShad Lakhnavi (d. 1892)
- شکل مژگاں نہ خار کی سی ہےہم نے تاڑی کٹار کی سی ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
- شگفتہ ہوتے ہی مرجھا گئی کلی افسوسبہار باغ ادھر آئی ادھر گئی افسوسShad Lakhnavi (d. 1892)
- عشق رخ و زلف میں کیا کوچشب آ کے رہا سحر کیا کوچShad Lakhnavi (d. 1892)
- عشق میں زور عمر بھر ماراعاقبت کوہ کن نے سر ماراShad Lakhnavi (d. 1892)
- غیروں میں حنا وہ مل رہا ہےنیرنگ جہاں بدل رہا ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
- قول اس دروغ گو کا کوئی بھی سچ ہوا ہےواعظ جہان بھر کا جھوٹا لباریا ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
- کہتے ہیں نالۂ حزیں سن کےسو دل گداز ہیں دھن کےShad Lakhnavi (d. 1892)
- کیا کہوں غنچۂ گل نیم دہاں ہے کچھ اورلا کلامی ہے وہاں بات یہاں ہے کچھ اورShad Lakhnavi (d. 1892)
- کیا یہ بت بیٹھیں گے خدا بن کراللہ اللہ اے برہمن کرShad Lakhnavi (d. 1892)
- گر جنوں کر مجھے پابند سلاسل جاتاپاؤں رکھنے کا ٹھکانا تو کہیں مل جاتاShad Lakhnavi (d. 1892)
- گوش کر فریاد عاشق جان کرنالۂ بلبل پہ اے گل کان کرShad Lakhnavi (d. 1892)
- لب بہ لب نبت العنب ہر دم رہےدور دور جام مے جم جم رہےShad Lakhnavi (d. 1892)
- میں وہ بے چارہ ہوں جس سے بے کسی مانوس ہےجو ہتھیلی ہاتھ میں ہے اک کف افسوس ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
- وقت تزئیں جو دکھائے وہ صفا سینے کومنہ دکھانے کی نہ پھر جا رہے آئینے کوShad Lakhnavi (d. 1892)
- وہ مے پرست ہوں بدلی نہ جب نظر آئیسمٹ گئیں جو سیہ کاریاں گھٹا چھائیShad Lakhnavi (d. 1892)
- ہر شب خیال غیر کے مارے الگ تھلگآتے ہیں خواب میں وہ ہمارے الگ تھلگShad Lakhnavi (d. 1892)
- ہم سے دو چار بزم میں دھیان اور کی طرفآنکھ اس طرف لگائی ہے کان اور کی طرفShad Lakhnavi (d. 1892)
- ہم وہ نالاں ہیں بولی ٹھولی میںبلبلوں کو جو لیں ٹھٹھولی میںShad Lakhnavi (d. 1892)
- یہ صنم بھی گھٹور کتنے ہیںبت بنے سن رہے ہیں جتنے ہیںShad Lakhnavi (d. 1892)
- اس نے افشاں جو چنی رات کو تنہا ہو کرآسماں ٹوٹ پڑا مجھ پہ ستارہ ہو کرShad Lakhnavi (d. 1892)
- اہل ایماں سے نہ کافر سے کہواے بتو لیکن خدا لگتی کہوShad Lakhnavi (d. 1892)
- بوسہ زلف دوتا کا دوروحوں بلائیں صدقہ دوShad Lakhnavi (d. 1892)
- بولنا بادہ کشوں سے نہ ذرا اے واعظکان پکڑوں گا جو قلقل کو سنا اے واعظShad Lakhnavi (d. 1892)
- پاس اس بت کے جو غیر آ کے کوئی بیٹھ گیادرد اٹھا یا مرے جس میں کہ جی بیٹھ گیاShad Lakhnavi (d. 1892)
- تو وہ ہندوستاں میں لالا ہےجس کا داغی غلام لالا ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
- جس کے ہم بیمار ہیں غم نے اسے بھی راندہ ہےہو چکا درماں مسیحا آپ ہی درماندہ ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
- جوں سبزہ رہے اگتے ہی پیروں کے تلے ہمبرسات کے موسم میں بھی پھولے نہ پھلے ہمShad Lakhnavi (d. 1892)
- جی جاؤں جو بند ناطقہ ہوخاموش کہیں یہ بولتا ہوShad Lakhnavi (d. 1892)
- دنیا میں قصر و ایواں بے فائدہ بنایاعقبیٰ انہیں بنائی منعم تو کیا بنایاShad Lakhnavi (d. 1892)
- لب جاں بخش پر جو نالہ ہےاب مسیحا بھی مرنے والا ہےShad Lakhnavi (d. 1892)
- لنج وہ پائے طلب ہوں کہیں جا ہی نہ سکوںشل یہ ہو دست ہوس ہاتھ بڑھا ہی نہ سکوںShad Lakhnavi (d. 1892)
- ناتواں وہ ہوں نگاہوں میں سما ہی نہ سکوںبھروں آنکھوں میں نظر سا نظر آ ہی نہ سکوںShad Lakhnavi (d. 1892)
- نظروں سے گلوں کی نونہالوشبنم کی طرح گرا سنبھالوShad Lakhnavi (d. 1892)