Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آپ ہیں بے گناہ کیا کہناکیا صفائی ہے واہ کیا کہناBekhud Dehlvi (1863–1955)
  2. آ گئے پھر ترے ارمان مٹانے ہم کودل سے پہلے یہ لگا دیں گے ٹھکانے ہم کوBekhud Dehlvi (1863–1955)
  3. اب اس سے کیا تمہیں تھا یا امیدوار نہ تھاتمہارے وصل کا تم سے تو خواست گار نہ تھاBekhud Dehlvi (1863–1955)
  4. اب کسی بات کا طالب دل ناشاد نہیںآپ کی عین عنایت ہے یہ بیداد نہیںBekhud Dehlvi (1863–1955)
  5. اٹھے تری محفل سے تو کس کام کے اٹھےدل تھام کے بیٹھے تھے جگر تھام کے اٹھےBekhud Dehlvi (1863–1955)
  6. اور ساقی پلا ابھی کیا ہےتیری سرکار میں کمی کیا ہےBekhud Dehlvi (1863–1955)
  7. ایسا بنا دیا تجھے قدرت خدا کی ہےکس حسن کا ہے حسن ادا کس ادا کی ہےBekhud Dehlvi (1863–1955)
  8. بات کرنے کی شب وصل اجازت دے دومجھ کو دم بھر کے لئے غیر کی قسمت دے دوBekhud Dehlvi (1863–1955)
  9. بزم دشمن میں بلاتے ہو یہ کیا کرتے ہواور پھر آنکھ چراتے ہو یہ کیا کرتے ہوBekhud Dehlvi (1863–1955)
  10. بنی تھی دل پہ کچھ ایسی کی اضطراب نہ تھاغشی کو آپ نے سمجھا تھا خواب خواب نہ تھاBekhud Dehlvi (1863–1955)
  11. بیتاب رہیں ہجر میں کچھ دل تو نہیں ہمتڑپیں جو تجھے دیکھ کے بسمل تو نہیں ہمBekhud Dehlvi (1863–1955)
  12. بیچنے آئے کوئی کیا دل شیدا لے کردام دیتے ہی نہیں آپ تو سودا لے کرBekhud Dehlvi (1863–1955)
  13. پچھتاؤگے پھر ہم سے شرارت نہیں اچھییہ شوخ نگاہی دم رخصت نہیں اچھیBekhud Dehlvi (1863–1955)
  14. تم ہمارے دل شیدا کو نہیں جانتے کیااور غیروں کی تمنا کو نہیں جانتے کیاBekhud Dehlvi (1863–1955)
  15. تمہیں ہم چاہتے تو ہیں مگر کیامحبت کیا محبت کا اثر کیاBekhud Dehlvi (1863–1955)
  16. تیشے سے کوئی کام نہ فرہاد سے ہواجو کچھ ہوا وہ عشق کی امداد سے ہواBekhud Dehlvi (1863–1955)
  17. ٹوٹے پڑتے ہیں یہ ہیں کس کے خریدار تمامصبح سے بند ہیں کیوں مصر کے بازار تمامBekhud Dehlvi (1863–1955)
  18. جتائے جاتے ہیں احسان بھی ستا کے مجھےسکھا رہے ہیں وہ گویا چلن وفا کے مجھےBekhud Dehlvi (1863–1955)
  19. جو تجھے امتحان دیتا ہےکس خوشی سے وہ جان دیتا ہےBekhud Dehlvi (1863–1955)
  20. جو تماشا نظر آیا اسے دیکھا سمجھاجب سمجھ آ گئی دنیا کو تماشا سمجھاBekhud Dehlvi (1863–1955)
  21. جھوٹ سچ آپ تو الزام دیئے جاتے ہیںبات سنتے نہیں دشنام دیئے جاتے ہیںBekhud Dehlvi (1863–1955)
  22. حجاب دور تمہارا شباب کر دے گایہ وہ نشہ ہے تمہیں بے حجاب کر دے گاBekhud Dehlvi (1863–1955)
  23. حضرت دل یہ عشق ہے درد سے کسمسائے کیوںموت ابھی سے آئے کیوں جان ابھی سے جائے کیوںBekhud Dehlvi (1863–1955)
  24. خدا رکھے تجھے میری برائی دیکھنے والےوفاداری میں طرز بے وفائی دیکھنے والےBekhud Dehlvi (1863–1955)
  25. دل چرا لے گئی دزدیدہ نظر دیکھ لیاہم نہ کہتے تھے کہ اس چور نے گھر دیکھ لیاBekhud Dehlvi (1863–1955)
  26. دل میں پھر وصل کے ارمان چلے آتے ہیںمیرے روٹھے ہوئے مہمان چلے آتے ہیںBekhud Dehlvi (1863–1955)
  27. دل ہے مشتاق جدا آنکھ طلب گار جداخواہش وصل جدا حسرت دیدار جداBekhud Dehlvi (1863–1955)
  28. دونوں ہی کی جانب سے ہو گر عہد وفا ہوچاہت کا مزا جب ہے کہ تم بھی مجھے چاہوBekhud Dehlvi (1863–1955)
  29. دے محبت تو محبت میں اثر پیدا کرجو ادھر دل میں ہے یا رب وہ ادھر پیدا کرBekhud Dehlvi (1863–1955)
  30. رات بھر گردش تھی ان کے پاسبانوں کی طرحپانو میں چکر تھا میرے آسمانوں کی طرحBekhud Dehlvi (1863–1955)
  31. روشن ہمارا دل ہے محمد کے نور سےلائے ہیں اس چراغ کو ہم کوہ طور سےBekhud Dehlvi (1863–1955)
  32. شمع مزار تھی نہ کوئی سوگوار تھاتم جس پہ رو رہے تھے یہ کس کا مزار تھاBekhud Dehlvi (1863–1955)
  33. شوق اپنا آپ میں اپنی زباں سے کیوں کہوںدل جو کچھ کہتا ہے وہ اس بد گماں سے کیوں کہوںBekhud Dehlvi (1863–1955)
  34. صبر آتا ہے جدائی میں نہ خواب آتا ہےرات آتی ہے الٰہی کہ عذاب آتا ہےBekhud Dehlvi (1863–1955)
  35. عاشق سمجھ رہے ہیں مجھے دل لگی سے آپواقف نہیں ابھی مرے دل کی لگی سے آپBekhud Dehlvi (1863–1955)
  36. عاشق ہیں مگر عشق نمایاں نہیں رکھتےہم دل کی طرح چاک گریباں نہیں رکھتےBekhud Dehlvi (1863–1955)
  37. عدو کو دیکھ کے جب وہ ادھر کو دیکھتے ہیںنظر چرا کے ہم ان کی نظر کو دیکھتے ہیںBekhud Dehlvi (1863–1955)
  38. عدو کے تاکنے کو تم ادھر دیکھو ادھر دیکھومگر ہم تم کو دیکھے جائیں تم چاہو جدھر دیکھوBekhud Dehlvi (1863–1955)
  39. قیامت ہے جو ایسے پر دل امیدوار آئےجسے وعدے سے نفرت ہو جسے ملنے سے عار آئےBekhud Dehlvi (1863–1955)
  40. کب تک کریں گے جبر دل ناصبور پرموسیٰ تو جا کے بیٹھ رہے کوہ طور پرBekhud Dehlvi (1863–1955)
  41. کیا ملے آپ کی محفل میں بھلا ایک سے ایکرشک ایسا ہے کہ بیٹھا ہے جدا ایک سے ایکBekhud Dehlvi (1863–1955)
  42. کیوں کہہ کے دل کا حال اسے بد گماں کروںیہ راز وہ نہیں ہے جسے میں بیاں کروںBekhud Dehlvi (1863–1955)
  43. لڑائیں آنکھ وہ ترچھی نظر کا وار رہنے دیںلڑکپن ہے ابھی نام خدا تلوار رہنے دیںBekhud Dehlvi (1863–1955)
  44. لطف سے مطلب نہ کچھ میرے ستانے سے غرضشوخیوں سے کام ان کو مسکرانے سے غرضBekhud Dehlvi (1863–1955)
  45. معشوق ہمیں بات کا پورا نہیں ملتادل جس سے ملائیں کوئی ایسا نہیں ملتاBekhud Dehlvi (1863–1955)
  46. منہ پھیر کر وہ کہتے ہیں بس مان جائیےاس شرم اس لحاظ کے قربان جائیےBekhud Dehlvi (1863–1955)
  47. میرے ہمراہ مرے گھر پہ بھی آفت آئیآسماں ٹوٹ پڑا برق گری چھت آئیBekhud Dehlvi (1863–1955)
  48. نہ ارماں بن کے آتے ہیں نہ حسرت بن کے آتے ہیںشب وعدہ وہ دل میں درد فرقت بن کے آتے ہیںBekhud Dehlvi (1863–1955)
  49. نہ سہی آپ ہمارے جو مقدر میں نہیںاب وہ پہلی سی تڑپ بھی دل مضطر میں نہیںBekhud Dehlvi (1863–1955)
  50. نہ کیوں کر نذر دل ہوتا نہ کیوں کر دم مرا جاتااکیلا بھیجتا اس کو وہ خالی ہاتھ کیا جاتاBekhud Dehlvi (1863–1955)