یاد ماضی کہ مری لغزش پا ہو جیسے

Rabab Rashidi

یاد ماضی کہ مری لغزش پا ہو جیسے

اور یہ کرب کا احساس سزا ہو جیسے

تجھ سے دوری کسی مجذوب کی منفی باتیں

تیرا ملنا کسی سالک کی دعا ہو جیسے

مدتوں سے ہے وہی شب کی مسافت جاری

کارواں سمت سفر بھول گیا ہو جیسے

اب تو چہروں سے وہ آثار رفاقت بھی گئے

ہر کوئی پیکر احساس انا ہو جیسے

تہمتیں ایسی کہ یہ سوچ رہا ہوں خود بھی

عمر کے ساتھ مرا قد بھی گھٹا ہو جیسے

مضمحل سا نظر آتا ہے مرا ذوق جمال

وہ بھی اس دھوپ میں تا دیر رہا ہو جیسے

کب تک آخر میں چلوں سمت مخالف کی طرف

آنے والا بھی کوئی آبلہ پا ہو جیسے

میری آنکھوں کی نمی کہنے لگی ہے کوئی بات

آئنہ مجھ سے نظر پھیر رہا ہو جیسے

زندگی اب ترا موضوع سخن میرے یہاں

ایک ٹوٹا ہوا پیمان وفا ہو جیسے

کب پتا دیتے ہیں پھولوں کو کھلانے والے

ہم سمجھتے ہیں کہ فیضان صبا ہو جیسے