حصار حفظ جاں کوئی نہیں ہے
Rafi Badayuniحصار حفظ جاں کوئی نہیں ہے
ہے کشتی بادباں کوئی نہیں ہے
جہاں تک میں گیا راہ طلب میں
وہاں تک سائباں کوئی نہیں ہے
کچھ ایسی ذہنیت کے لوگ بھی ہیں
جہاں وہ ہیں وہاں کوئی نہیں ہے
محبت میں ہے نفرت کا بھی امکاں
خلوص بے کراں کوئی نہیں ہے
گماں ہو اپنے ویرانے کا جس پر
مکاں ایسا یہاں کوئی نہیں ہے
خود اپنے آپ سے ہم بد گماں ہیں
کسی سے بد گماں کوئی نہیں ہے
ہوئی تصدیق ان سے گفتگو پر
جواب جاہلاں کوئی نہیں ہے
طلب کی آخری منزل ہے شاہد
غم سود و زیاں کوئی نہیں ہے