خفا ہے کوئی کسی سے نہ کوئی بد ظن ہے

Rafi Badayuni

خفا ہے کوئی کسی سے نہ کوئی بد ظن ہے

ہر ایک شخص یہاں آپ اپنا دشمن ہے

کسی غریب کا گھر ہے بس اور کیا کہئے

یہ میرا دل جو سبھی آفتوں کا مسکن ہے

وہ زندگی جسے خون جگر دیا میں نے

وہ زندگی تو مرے نام سے بھی بد ظن ہے

خدا کا شکر ہے غم کی ہواؤں میں بھی رفیعؔ

چراغ زیست بہر حال آج روشن ہے