مانتا نہیں میری حجتیں بھی کرتا ہے
Urooj Zehra Zaidiمانتا نہیں میری حجتیں بھی کرتا ہے
بات بات میں اپنی جدتیں بھی کرتا ہے
آگ بھی لگاتا ہے آپ اپنے دامن میں
پھر اسے بجھانے کو بارشیں بھی کرتا ہے
عشق خود سے ہے اس کو اور خود ہی وہ پاگل
اپنا آپ کھونے کی سازشیں بھی کرتا ہے
دل میں جیتے رہنے کی آس بڑھتی رہتی ہے
ساتھ ساتھ مرنے کی خواہشیں بھی کرتا ہے
جاں کنی کے عالم میں یاد کر کے پیاروں کو
موت کے فرشتے سے منتیں بھی کرتا ہے
مجھ سے تھوڑا ڈرتا ہے پاس یوں نہیں آتا
باقیوں سے تو اکثر خلوتیں بھی کرتا ہے
مجھ سے کہتا رہتا ہے خوش رہا کرو ناں تم
اور دل دکھانے کی حرکتیں بھی کرتا ہے
بات بھی نہیں کرتا مجھ سے اور پھر اپنی
ایک ایک عادت میں منطقیں بھی کرتا ہے
کچھ الگ سا ہے سب سے کچھ عجب وہ ہے زہراؔ
اپنی ہر محبت میں شدتیں بھی کرتا ہے