ایک دو اشک بہاتی ہے چلی جاتی ہے

Urooj Zehra Zaidi

ایک دو اشک بہاتی ہے چلی جاتی ہے

اب تری یاد بھی آتی ہے چلی جاتی ہے

وہ مری دوست جسے بعد مرے چاہا تھا

مجھ سے نظروں کو چراتی ہے چلی جاتی ہے

کبھی دہشت نے بگاڑے تھے پر اب تنہائی

خود مرے بال بناتی ہے چلی جاتی ہے

ثبت کر کے مرے ماتھے پہ مری ہو کی مہر

چاندنی درد بڑھاتی ہے چلی جاتی ہے

یہ محبت بھی عجب چیز ہے زہرا زیدیؔ

چند لمحوں کو سجاتی ہے چلی جاتی ہے