در پردۂ بہار جو وہ نغمہ خواں نہ ہو
Vahshi Kanpuriدر پردۂ بہار جو وہ نغمہ خواں نہ ہو
بلبل سے نالہ گل سے تبسم عیاں نہ ہو
غواص بحر عشق نہ طوفان غم سے ڈر
یہ بھی شناوری کا تری امتحاں نہ ہو
ناکامیٔ خرد سے مجھے اب یہ خوف ہے
سعئ جنوں بھی میری کہیں رائیگاں نہ ہو
ایسا کوئی مقام نہ اب تک ملا جہاں
میری جبیں ہو اور ترا آستاں نہ ہو
اس بے نشاں کا مل نہیں سکتا کبھی سراغ
جب تک کوئی تلاش میں خود بے نشاں نہ ہو
میں بھی مٹا چکا ہوں رہ عشق میں حیات
میرا ہی یہ غبار پس کارواں نہ ہو
وحشیؔ طریق عشق میں رسوائیاں بھی ہیں
کتنا ہی درد دل میں ہو لب پر فغاں نہ ہو