خیال کچھ یوں بلکھتے ہیں سینہ میں
Varsha Gorchhiaخیال کچھ یوں بلکھتے ہیں سینہ میں
جیسے گناہ پگھلتے ہوں
جیسے لفظ چٹکتے ہوں
جیسے روحیں بچھڑتی ہوں
جیسے لاشیں پھنپھناتی ہوں
جیسے لمس کھردرے ہوں
جیسے لب دردرے ہوں
جیسے کوئی بدن کترتا ہو
جیسے کوئی سمن کچرتا ہو
خیال تیرے کچھ یوں بلکھتے ہیں سینہ میں