سکوں بھری

Varsha Gorchhia

سکوں بھری

کسی خاموش جھیل کے کنارے

املتاس سی میں

موسم بہار میں

محبت کے جزیرے سے آتی

پر اثر ہواؤں کے جھونکوں کی

گفتگو سنتی ہوں

کسی اجنبی سی زبان میں

کچھ ان کہے سے لفظ ہیں

کسی جانے پہچانے سے کردار کی

کچھ نئی نئی سی آواز ہے

کسی سنے سنے سے فسانے کے

کچھ ان دیکھے انداز ہیں

میں دیکھتی ہوں کہ کچھ نئے نئے سے پھول

میری شرمیلی سی ٹہنیوں میں

کچھ نارنگی سا رنگ لیے ہوئے ہے

کوئی نشیلی سی مہک ہے

یے کیسی کہانی ہے

یہ کیا رنگ ہے