سوئیاں کھانے کا
Varsha Gorchhiaسوئیاں کھانے کا
من کرتا ہے
کب ہارے میں رکھی
ہاندی اترے گی
کب ماں
سوئیاں پروسے گی
کب سے
تھالی لیے کھڑی ہوں
پہلے دھواں گہرا تھا
آنکھوں میں چبھتا تھا
کھارا تھا بہت
اب ہلکا ہے
جھینا ہے
خوشبو آتی ہے دھوئیں سے
گر گر کی آوازیں
آنے لگی ہے ماں
ہاندی اتار لو
سوئیاں پک گئی ہیں