زمیں سے آسماں تک آسماں سے لا مکاں تک ہے

Vahshi Kanpuri

زمیں سے آسماں تک آسماں سے لا مکاں تک ہے

ذرا پرواز مشت خاک تو دیکھو کہاں تک ہے

تلاش و جستجو کی حد فقط نام و نشاں تک ہے

سراغ کارواں بھی بس غبار کارواں تک ہے

جبین شوق کو کچھ اور بھی اذن سعادت دے

یہ ذوق بندگی محدود سنگ آستاں تک ہے

سراپا آرزو بن کر کمال مدعا ہو جا

وہ ننگ عشق ہے جو آرزو آہ و فغاں تک ہے

بڑھائے جا قدم راہ طلب میں شوق سے وحشیؔ

کہ حد سعی لا حاصل فقط کون و مکاں تک ہے