یاد رہے
Varsha Gorchhiaیاد رہے
چاہتوں کا یہ شہر
خوابوں کا محلہ
عشق کی گلی
اور کچا مکاں محبت کا
جو ہمارا ہے
خوشبوؤں کی دیواریں ہیں جہاں
احساسات کی چھتیں
ہنسی اور آنسوؤں سے
لپا پتا آنگن ہے
ہرا بھرا
گہری چھانو والا
پیار کا ایک پیڑ ہے جہاں
قصوں کے چوکے میں
باتوں کے کچھ برتن
اوندھے ہیں شرمیلے سے
تو کچھ سیدھے مسکراتے ہوئے
شکایتوں کے دھوئیں سے
کالے کچھ برتن
ہمارا منہ تاکتے ہیں
کہ کیوں نہیں انہیں صاف کیا
رگڑ کر ہم نے
بھیتر ایک ٹرنک بھی ہے
لمحوں سے بھرا
ریشمی چادروں میں
یادوں کی سلوٹیں ہیں
آلے میں جلتا چراغ
وو کھوٹیوں پر لٹکتے
دو جسموں کی جھلیاں
جنگلوں اور کھڑکیوں سے
جھانکتی چاہتیں ہماری
دروازے کی چوکھٹ سے
ٹپکتی ہوئی
برسات کی پاگل بوندیں کچھ
ہوا کے کچھ جھونکے
اور نہ جانے کیا کیا
سب بک جائے گا اک دن
سماج کے ہاتھوں
رواجیں بولیاں لگائیں گی
ذات بھاؤ بڑھائے گی اپنا
اور خرید لیں گے
جنم کے زمین دار
وہ مکاں ہمارا