کوئی ذرہ جو دل کی خاک کا برباد ہوتا ہے

Vahshi Kanpuri

کوئی ذرہ جو دل کی خاک کا برباد ہوتا ہے

جہان عشق میں شور مبارک باد ہوتا ہے

نہ پوچھو کیا سرور لذت بیداد ہوتا ہے

جب آغوش محبت میں دل ناشاد ہوتا ہے

خدا جانے یہ کیا دام بلا ہے گلشن ہستی

جدھر پرواز کرتا ہوں ادھر صیاد ہوتا ہے

یہ درس عشق بھی کیسا انوکھا درس ہے یا رب

کہ جتنا بھولتا جاتا ہوں اتنا یاد ہوتا ہے

جو تیری یاد میں گرتا ہے بن کر گوہر مقصد

وہی اشک محبت حاصل روداد ہوتا ہے

کوئی شوریدہ سر پابند زنداں ہو نہیں سکتا

بگولہ اپنی زنجیروں میں بھی آزاد ہوتا ہے

جو وحشیؔ کی طرح ہوتا ہے پابند غم جاناں

وہی تو بس غم دوراں سے بھی آزاد ہوتا ہے