سنو نہ

Varsha Gorchhia

سنو نہ

کہیں سے کوئی

کاربن پیپر لے آؤ

خوب صورت اس وقت کی

کچھ نقلیں نکالیں

کتنی پرچیوں میں

جیتے ہیں ہم

لمحوں کی بیش قیمتی

رسیدیں بھی تو ہیں

کچھ تو حساب

رکھیں ان کا

قسمت

پکی پرچی تو

رکھ لے گی زندگی کی

کچھ کچی پرچیاں

ہمارے پاس بھی تو ہوں گی

کچھ نقلیں

کچھ رسیدیں

لکھائیاں کچھ

مٹھیوں میں ہو

تو تسلی رہتی ہے

سنو نہ

کہیں سے کوئی

کاربن پیپر لے آؤ