کس دھن میں رہتی ہو تم
Varsha Gorchhiaکس دھن میں رہتی ہو تم
الجھے ہوئے بالوں کی گرہیں
تم سے نہیں سلجھتی کیا
لاؤ انہیں میں سلجھا دوں
اون کے الجھے گچھوں سے
یہ بال تمہارے
سلجھے تو ریشم ہو جائیں
اور بالوں کو سلجھانے کے بہانے
جیون کی الجھن سلجھاؤں
گھنے بنوں میں شنکھ بجاؤں
اور تتلی بن کر اڑ جاؤں
شاخوں کو میں رقص دکھاؤں
ایک کاغذ کی ناؤ بناؤں
تجھ کو دور بہا لے جاؤں
اور تیرے دکھ کی ورشا میں
انتر من تک بھیگتی جاؤں
آ اجنبی سی لڑکی
میں تیری بچپن کی سی سہیلی ہو جاؤں