گنگا کی چھاتی پر
Varsha Gorchhiaگنگا کی چھاتی پر
سر رکھ کر نئی
کچھ دیر
جکڑے بنارس کے
بوڑھے ناخونوں اور جھریوں نے
چپچپاتی چمڑی والے ہاتھوں کو
چھو کر یوں لگا کہ تم وحی ہو جو میں ہوں
اور یہ میری جگہ ہے
میں ہوں منیکرنیکا
اور تم میرے کاشی
یے جو گنگا ہے نا
اسی میں بہتے بہتے ہم ایک کنارے
ملے تھے کبھی
اور ہمیشہ کے لیے ایک ہو گئے
یے گنگا ہی شاکشی ہے
گنگا ہی رشتہ
یہی پریم بھی
سوتر بھی یے ہے
ہم گنگا کے کنکر
گنگا کی اولاد
اور اسی میں موہ
موکش بھی اسی میں
میں منیکرنیکا
تم میرے کاشی