آہوں سے عیاں برق فشانی ہو جائے
مرزا سلامت علی دبیرآہوں سے عیاں برق فشانی ہو جائے
غل رعد کا نالوں کی زبانی ہو جائے
اشکوں سے جھڑی لگے وہ شہ کے غم کی
ساون کی گھٹا شرم سے پانی ہو جائے
آہوں سے عیاں برق فشانی ہو جائے
غل رعد کا نالوں کی زبانی ہو جائے
اشکوں سے جھڑی لگے وہ شہ کے غم کی
ساون کی گھٹا شرم سے پانی ہو جائے