ایک دنیا مست اک عالم خراب
ناطق لکھنویایک دنیا مست اک عالم خراب
کس نے کی تقسیم آنکھوں سے شراب
اک قیامت تھا وہ حسن لاجواب
اب قیامت پر قیامت ہے شباب
روئے ساقی مطلع نور شراب
آفتاب آمد دلیل آفتاب
عشق نے کونین پر ڈالی نظر
حسن پر ٹھہری نگاہ انتخاب
عشق سے بہتر نہیں کوئی گناہ
ہجر سے بد تر نہیں کوئی عذاب
عشق نیک انجام نے مژدہ دیا
تیری ناکامی ہے ناطقؔ کامیاب