مجھ سے افسردہ نہ اے جوش بہاراں ہونا
ناطق لکھنویمجھ سے افسردہ نہ اے جوش بہاراں ہونا
کیف میں بھول گیا چاک گریباں ہونا
جب بکھر جاتی ہے زلف اور نکھر جاتی ہے
مجھ کو جمعیت خاطر ہے پریشاں ہونا
ذرہ ذرہ ہے تجلی سے لڑائے ہوئے آنکھ
کس قیامت کی نمائش ہے یہ پنہاں ہونا
دور ہیں تجھ سے ابھی نور کے ذرے ہر سو
اے مری خاک ذرا اور پریشاں ہونا
حسرت دید نے آئینہ بنایا دل کو
عین نظارہ ہے نظارہ کا ارماں ہونا
حسن ہر شے کو دیا عشق ملا ہر دل کو
تاکہ آسان ہو انسان کا انساں ہونا
خوب ہوتا ہے نمایاں سخن ناطقؔ سے
مثل معنی ترا ہر لفظ میں پنہاں ہونا