ہے رزم سراپا تو زباں اور ہی ہے

مرزا سلامت علی دبیر

ہے رزم سراپا تو زباں اور ہی ہے

اور بین کے مابین بیاں اور ہی ہے

کس درجہ بلند ہے تیری فکر دبیرؔ

کہتی ہے زمیں یہ آسماں اور ہی ہے