ہم شان نجف نہ عرش انور ٹھہرا
مرزا سلامت علی دبیرہم شان نجف نہ عرش انور ٹھہرا
میزان میں یہ بھاری وہ سبک تر ٹھہرا
اس پلے میں تھا نجف اور اس پلے میں عرش
پہنچا وہ فلک پہ یہ زمیں پر ٹھہرا
ہم شان نجف نہ عرش انور ٹھہرا
میزان میں یہ بھاری وہ سبک تر ٹھہرا
اس پلے میں تھا نجف اور اس پلے میں عرش
پہنچا وہ فلک پہ یہ زمیں پر ٹھہرا