Poetry
Poet
Meter
- جس کے ایماں پر بت کافر ہنسےاللہ اللہ وہ ہنسے کیونکر ہنسےعلی منظور حیدرآبادی
- حسن ان کا اپنے ذوق دید میں پاتا ہوں میںسامنے ہو کر وہ چھپتے ہیں تڑپ جاتا ہوں میںعلی منظور حیدرآبادی
- حسن کو سمجھتا ہے عشق ہم زباں اپناہے حقیقت ایسی ہی یا ہے یہ گماں اپناعلی منظور حیدرآبادی
- عشق صادق جو اسیر طمع خام نہ تھاسعیٔ ناکام کے غم سے مجھے کچھ کام نہ تھاعلی منظور حیدرآبادی
- غم کا گماں یقین طرب سے بدل گیااحساس عشق حسن کے سانچے میں ڈھل گیاعلی منظور حیدرآبادی
- فرق جب لذت احساس میں پایا نہ گیادرد دیکھا نہ گیا تم کو دکھایا نہ گیاعلی منظور حیدرآبادی
- گم انہیں میں ہوں ان کا دھیان کب نہیں آتایاد انہیں بھلانے کا کوئی ڈھب نہیں آتاعلی منظور حیدرآبادی
- لائے گی رنگ آپ کی یہ دل لگی کچھ اوربڑھ کر رہے گی اب مری آشفتگی کچھ اورعلی منظور حیدرآبادی
- ناز بت مہوش پر قربان دل و جاں ہےیہ شان خدا شاہد غارت گر ایماں ہےعلی منظور حیدرآبادی
- جاسوس دوستعلی منظور حیدرآبادی
- چاند اور سورجعلی منظور حیدرآبادی
- اک حسیں کو دل دے کر کیا بتائیں کیا پایالذت فنا چکھی زیست کا مزا پایاعلی منظور حیدرآبادی
- مہمانداریعلی منظور حیدرآبادی
- کچھ نہیں کے دو پہلوعلی منظور حیدرآبادی
- درس محبتعلی منظور حیدرآبادی
- راز چشم مے گوں ہے کیف مدعا میراغیر کی نظر سے ہے دور میکدہ میراعلی منظور حیدرآبادی
- وقت کی چیزعلی منظور حیدرآبادی
- محبت (علی منظور حیدرآبادی)علی منظور حیدرآبادی
- دعوت نظرعلی منظور حیدرآبادی
- صبح چمنعلی منظور حیدرآبادی
- اب زندگی میں ہوش کا امکان تو گیالیکن تری نگاہ کو پہچان تو گیامنیر بھوپالی
- ادب سے شکوۂ غم ہو رہا ہےزباں خاموش ہے دل رو رہا ہےمنیر بھوپالی
- بخت کو رویا کئے اور آشیاں دیکھا کئےبجلیاں گرتی رہیں ہم بے زباں دیکھا کئےمنیر بھوپالی
- بیان سن نہ سکا جب کوئی بیاں کی طرحسنایا حال دل زار داستاں کی طرحمنیر بھوپالی
- جب برق پاش جلوۂ جانانہ بن گیافرزانہ تھا وہی کہ جو دیوانہ بن گیامنیر بھوپالی
- خوشی کی حد غموں کی انتہا معلوم ہوتی ہےخدا جانے محبت کیا ہے کیا معلوم ہوتی ہےمنیر بھوپالی
- دل میں ہجوم شوق و تمنا لیے ہوئےجاتا ہوں تیری بزم سے کیا کیا لیے ہوئےمنیر بھوپالی
- ڈھونڈ لیں ہم کو ہماری جو خبر رکھتے ہیںہم کو دیکھیں وہ اگر حسن نظر رکھتے ہیںمنیر بھوپالی
- زمانہ میں فسانہ بن گئی دیوانگی میریترے پردہ نے کی پردہ نشیں پردہ دری میریمنیر بھوپالی
- ساز دل تشنۂ مضراب تمنا نہ رہادیدۂ شوق تماشا ہے تماشا نہ رہامنیر بھوپالی
- کن الجھنوں میں چھوڑ گئی جستجو مجھےمیں آرزو کو ڈھونڈھتا ہوں آرزو مجھےمنیر بھوپالی
- مآل جور سمجھے اور نہ انجام وفا سمجھےنہ ان کا مدعا جانا نہ اپنا مدعا سمجھےمنیر بھوپالی
- محبت ابتدا ہے ہر خبر کیمحبت انتہا ہے ہر نظر کیمنیر بھوپالی
- محبت میں اک ایسا بھی مقام آتا ہے مشکل کاجہاں خود دل ہی بن جاتا ہے دشمن ہستئ دل کامنیر بھوپالی
- وہ محبت وہ دل وہ خو ہی نہیںواقعہ ہے کہ تو وہ تو ہی نہیںمنیر بھوپالی
- ہر مصیبت بھی شادمانی تھیاک بلا تھی کہ نوجوانی تھیمنیر بھوپالی
- ہمارا جذب صادق شوق کامل دیکھتے جاؤیہیں کھنچ کر چلی آئے گی منزل دیکھتے جاؤمنیر بھوپالی
- ہوتی ہے طبیعت ہی خدا داد کسی کیالفت میں وفائیں نہیں ایجاد کسی کیمنیر بھوپالی
- یہی ہیں برق کی جولانیاں تو آشیاں کب تکاٹھے گا خاک پروانہ سے محفل میں دھواں کب تکمنیر بھوپالی
- بے نیاز ہر تمنا ہو گیاعشق میں اب حسن پیدا ہو گیامنیر بھوپالی
- تاب دیدار لا نہیں سکتےان سے نظریں ملا نہیں سکتےمنیر بھوپالی
- طور بن کر جل گیا یا شوق موسیٰ ہو گیاہائے وہ دل جو ترے جلوہ کا شیدا ہو گیامنیر بھوپالی
- محبت ہے تو پھر اندازۂ شوق وفا کیوں ہوشکایت درد کی کیوں ہو جفاؤں کا گلہ کیوں ہومنیر بھوپالی
- نہ ابتدا ہوں کسی کی نہ انتہا ہوں میںتعینات کی حد سے گزر گیا ہوں میںمنیر بھوپالی
- آفاق سے استاد یگانہ اٹھامضموں کے جواہر کا خزانہ اٹھامرزا سلامت علی دبیر
- ادنیٰ سے جو سر جھکائے اعلیٰ وہ ہےجو خلق سے بہرہ ور ہے دریا وہ ہےمرزا سلامت علی دبیر
- اس بزم کو جنت سے جو خوش پاتے ہیںرضواں لیے گلدستہ نور آتے ہیںمرزا سلامت علی دبیر
- اس بزم میں ارباب شعور آئے ہیںیہ شیعہ ہیں یا آیۂ نور آئے ہیںمرزا سلامت علی دبیر
- اعدا کو ادھر حرام کا مال ملاحرؔ کو اسداللہ کا ادھر لال ملامرزا سلامت علی دبیر
- پھر چرخ پر آسمان پیر آیا ہےہر کوچہ میں وقت دار و گیر آیا ہےمرزا سلامت علی دبیر