بات کہنے کے لئے بات بنائی نہ گئی

Charkh Chinioti

بات کہنے کے لئے بات بنائی نہ گئی

ہم سے بارات فریبوں کی سجائی نہ گئی

آج بھی دار کے تختہ سے صدا آتی ہے

حق کی آواز ستم گر سے دبائی نہ گئی

دوست کرتے ہیں حسد اس لیے تیری تصویر

ماسوا دل کے کہیں اور سجائی نہ گئی

غم کی تصویر بنانے کو میں جب بھی بیٹھا

ان کی مسکان ابھر آئی بنائی نہ گئی

نئی تہذیب کے خاکوں کو سنوارا ہم نے

ہم سے اخلاق کی تصویر بنائی نہ گئی

جانے کیا سوجھی مری قبر پر آ کر ان سے

گل چڑھائے نہ گئے شمع جلائی نہ گئی

میں تو بات آئی گئی کر کے چلا آیا تھا

ہو گئی بات پرائی وہ دبائی نہ گئی

اس نے ہنگاموں سے بہلائی ہے اپنی دنیا

وقت سے امن کی شہنائی بجائی نہ گئی

چرخؔ دیکھے جو جوانی کے ابھرتے جلوے

زندگی اپنی گناہوں سے بچائی نہ گئی