بزم جاناں میں محبت کا اثر دیکھیں گے
Charkh Chiniotiبزم جاناں میں محبت کا اثر دیکھیں گے
کس سے ملتی ہے نظر ان کی نظر دیکھیں گے
اب نہ پلکوں پہ ٹکو ٹوٹ کے برسو اشکو
ان کا کہنا ہے کہ ہم دیدۂ تر دیکھیں گے
دھڑکنو تیز چلو ڈوبتی نبضو ابھرو
آج وہ بجھتے چراغوں کی سحر دیکھیں گے
اے مرے دل کے سلگتے ہوئے داغو بھڑکو
ہجر کی رات وہ جلتا ہوا گھر دیکھیں گے
تیرے در سے ہمیں خیرات ملے یا نہ ملے
ہم ترے در کے سوا کوئی نہ در دیکھیں گے
میکدے جھومیں گے برسے گی جوانی کی شراب
وہ چھلکتی ہوئی نظروں سے جدھر دیکھیں گے
ان کی نظروں سے ہے وابستہ زمانے کی نظر
وہ جدھر دیکھیں گے سب لوگ ادھر دیکھیں گے
آج ماضی کے فسانے وہ سنیں گے اے چرخؔ
میری برباد امیدوں کے کھنڈر دیکھیں گے