جب سر بام وہ خورشید جمال آتا ہے
Charkh Chiniotiجب سر بام وہ خورشید جمال آتا ہے
ذرے ذرے پہ قیامت کا جلال آتا ہے
پھول مسکاتے ہیں لہراتی ہے ٹہنی ٹہنی
فصل گل آتے ہی ہر شے پہ جمال آتا ہے
وہ جنم دن پہ بلاتے ہیں ہمیشہ مجھ کو
ہر نیا سال بانداز وصال آتا ہے
کیوں ترے ہونٹ مجھے دیتے ہیں منفی میں جواب
میرے ہونٹوں پہ یہ رہ رہ کے سوال آتا ہے
جب سوالی کوئی آ جاتا ہے در پر تو مجھے
اس کی بخشی ہوئی نعمت کا خیال آتا ہے
ان کے کھلتے ہوئے جوبن کو وہ مرجھا نہ سکا
آنے کو دور خزاں سال بہ سال آتا ہے
مجھے جچتی ہی نہیں اور کسی کی صورت
جب خیال آتا ہے تیرا ہی خیال آتا ہے
تارے گنواتی ہیں پھر ہجر کی کالی راتیں
جب مجھے یاد کوئی زہرہ جمال آتا ہے
یوں رخ زرد چمک اٹھتا ہے آنے پہ ترے
جیسے ہولی میں کوئی مل کے گلال آتا ہے
اپنے ہاتھوں کے پلے لوگ جو ہو جائیں خلاف
ان کے اخلاق پہ اے چرخؔ ملال آتا ہے